7

صدر مملکت کا 4 دسمبر کو ملک بھر میں یوم دعا منانے کا اعلان

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا وائرس کے ملک میں تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر جمعہ 4 دسمبر کو ملک بھر میں یوم دعا منانے کا اعلان کیا ہے۔

ایوان صدر میں کورونا وائرس کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علما سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ 17 اپریل کو یومیہ کورونا کے 500 مریض سامنے آرہے تھے اور جون کے مہینے میں یہ بڑھ گیا اور 12 جون تک 6 ہزار 400 تک پہنچ گیا لیکن پھر یہ لوگوں تک پہنچتے پہنچتے یہاں تک رک گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں وبا کا دوسرا حملہ ہے، اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سے گزارش کی کہ جو کامیابیاں ہم نے پہلے حاصل کیں، انہی کو دوبارہ محنت کرکے لوگوں تک اپنی بات پہنچا کر کامیابی حاصل کی جائے۔تحریر جاری ہے‎

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ہمیں کورونا سے بچنا ہے، کورونا سے لڑنا ہے والی کیفیت کو ہٹا دیا جائے۔

وزیر اعظم نے علما کے نام پیغام میں کہا کہ منبر اور محراب سے آپ کے ڈسپلن کی وجہ سے جو پیغام گیا میں ریاست کی طرف سے اسے سراہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ انتہائی منظم ہیں، آپ لوگوں کے کہنے سے معاشرے پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگوں کو اس کامیابی کے بعد اس کا اندازہ ہوا، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ان سارے معاملات میں علما کو ساتھ لے کر چلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت ﷺ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قرارداد کے اعتبار سے جو کردار وزیر اعظم نے ادا کیا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم نے جو بیان دیا اس کو بھی یہاں علما نے سراہا۔

صدر مملکت نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر پر علما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری لہر میں لوگوں کی سنجیدگی کم ہو گئی ہے اور لوگ اس کو اتنی اہمیت نہیں دے رہے جتنی پہلی وارننگ میں دی گئی تھی اور اس وجہ سے علما نے پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی طے پایا کہ جمعے کے اجتماعات کے اندر خصوصاً 4 دسمبر کو یوم دعا منایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 4 دسمبر کو ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا اور علما نے اتفاق کیا کہ تمام اجتماعات اور دروس میں لوگوں کو آگاہی دیتے رہیں، ناصرف مساجد میں ایس او پیز کا اہتمام کریں گے بلکہ آپ کے کہنے سے لوگ بازاروں میں بھی احتیاط کریں گے اور اس طرح سارے معاشرے پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بازاروں، مارکیٹوں اور شادیوں میں اجتماعات کے حوالے سے حکومت اپیل کے ذریعے کوشش کررہی ہے اور آپ پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ معاشرے کے ہر فرد تک اس بات کو پہنچایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں