7

کراچی پولیس کا ایک اور مقابلہ جعلی ثابت؛ پولیس پارٹی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے جعلی پولیس مقابلے کی مرتکب پولیس پارٹی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ 

ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کا ایک مقابلہ جعلی ثابت ہوگیا، اور سندھ ہائی کورٹ نے ڈکیتی اور پولیس مقابلے میں مجرم کی سزا کالعدم قرار دیدی، جب کہ پولیس پارٹی کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور ایس ایس پی ویسٹ کو محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دے دیا۔

جسٹس نظر اکبر  اور جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ کے مقدمات میں سزا کے خلاف مجرم کی اپیل منظور کرلی۔ عدالت نے پولیس پارٹی کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ایس ایس پی ویسٹ کو پولیس پارٹی کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا بھی حکم دیا ہے۔ پولیس پارٹی میں اے ایس آئی عمران، پولیس کانسٹیبلز عارف،سجاد، وقار اور فہد علی شامل ہیں۔ ملزمان نے 2 شہریوں غلام شبیر اور غلام رسول کو بے دردی سے قتل کیا۔

عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ پولیس کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی مگر جائے وقوعہ سے 3 خول برآمد ہوئے، پولیس نے ملزمان سے جو اسلحہ برآمد کیا اور جو خول برآمد ہوئے وہ بھی میچ نہیں کرتے، ایم ایل او کے مطابق مقتولین کو دو فٹ کے فاصلے سے بھاری ہتھیار سے گولی سر میں ماری،  ملزمان کے خلاف ڈکیتی کے شواہد بھی نہیں ملے۔ عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے مطابق پولیس مقابلے میں جاوید عیسی کو سزا سنائی تھی اسے بھی کالعدم قرار دے دیا، جب کہ پولیس پارٹی کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دے دیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف 2019 میں سرجانی تھانے میں پولیس مقابلے اور غیر قانونی اسلحہ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، پولیس نے سرجانی تھانے کی حدود میں پولیس مقابلے میں 2 ملزمان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں