7

صحت اور آفات سے متعلق رپورٹنگ،صلاحیتوں کی بہتری کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

اسلام آباد (خبر نگار )صحت اور آفات سے متعلق امور کی ذمہ دارانہ اور درست رپورٹنگ ، دستیاب ڈیجیٹل ٹولز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے بارے صحافیوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے 2 روزہ تربیت / ورکشاپ کا انعقاد۔تفصیلات کے مطابق جمہوری عمل میں آزاد میڈیا کے کردار ، صحافیوں کے تحفظ ، صحت اور آفات سے متعلق امور کی درست رپورٹنگ ، صحافت میں ڈیجیٹل ٹولز کا زیادہ سے زیادہ استعمال ، میڈیا اور صحافیوں سے متعلق قوانین و ضوابط سے آگاہی کیلیئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے 26 پروفائلڈ ضلعی سطح کے نامہ نگاروں (Reporters ) کو اسلام آباد ہوٹل میں پتن ترقیاتی تنظیم نے ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاونٹبلٹی (ٹی ڈی ای اے) کے اشتراک سے دو روزہ تربیت کا اہتمام کیا۔ ضلعی صحافیوں کے لیے اس تربیت کا اہتمام ٹی ڈی ای اے اور فافن ایک منصوبے کے تحت کر رہے ہیں جس کا نام Local Action for Democratic and Inclusive Response to COVID-19 یا مختصرا LADIR ہے ۔ یہ ایک سات ماہ کا منصوبہ ہے جس کے تحت ٹی ڈی ای اے اور فافن کی رکن تنظیمیں کووِڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کی حکومتی کوششوں کی غیرجانبدارانہ نگرانی کر رہی ہیں تا کہ ایسی حکمتِ عملی کے لیے سفارشات تیار کی جاسکیں جو معاشرے کے سبھی طبقات کو اس وبا کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاون ہو۔ اسی منصوبے کے تحت مقامی صحافیوں کے لیے تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے حالیہ وبا کے دوران خود کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنا صحافتی کردار بطریقِ احسن ادا کرسکیں۔جمہوریت عوامی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے کیونکہ اس نظام میں سوچنے، بولنے اور تحریر و تحقیق کی آزادی حاصل ہوتی ہے جس کے بغیر حقوق کا تحفظ اور تعین ناممکن ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آزاد میڈیا کا کردار بہت ضروری ہے کیونکہ صحافت یا میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے اور اسے معاشرے کی آنکھ ، کان اور زبان کہا جاتا ہے۔ آزاد میڈیا عوام کے بنیادی آئینی حقوق کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آزاد میڈیا منتخب حکومتوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے اور جمہوریت کے فروغ اور استحکام میں مدد دیتا ہے۔میڈیا معاشرے اور ریاست کی جانب سے امتیازی سلوک کے شکار طبقات کی آواز اٹھانے اور انہیں مرکزی دھارے یعنی مین سٹریم میں لانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔میڈیا کی بدولت بہت سے ایسے واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے جو خواتین، اقلیتوں، خواجہ سراں، یا بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتے ہیں۔میڈیا کے دبا کی بنا پر ہی سرکاری محکمے اور اہلکار ایسے واقعات پر کارروائی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔گویا میڈیا کسی جمہوریت کی اصل روح یعنی معاشرے کے سبھی طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے عمل میں معاونت کرتا ہے۔صحافیوں کے لیے آئین اور قانون کو جاننا نہایت اہم ہے تا کہ وہ اپنی خبروں اور تجزیوں کو انہیں کی روشنی میں ڈھال سکے ۔آئینی حقوق اور قوانین سے باخبر صحافی اچھی خبریں ڈھونڈ سکتے ہیں اور انہیں بہتر انداز میں تحریر کرسکتے ہیں ۔ قوانین اور ضوابط سے آگاہی صحافی کو اپنے اور اپنی خبروں کے قانونی دفاع میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ آئین اور قانون میں درج انسانی حقوق سے متعلق خبریں اور تجزیے عام شہریوں کو اپنے قانونی حق سے باخبر رکھتے ہیں اور انہیں اس کے لیے آواز اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔ آئینی اور قانونی حقوق سے باخبر صحافی اور معاشرہ ہی حکومتوں، حکومتی اداروں اور اہلکاروں کو جوابدہ بنا سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی کو انفارمیشن ایج(Information Age)، ڈیجیٹل ایج(Digital Age) یا نیو میڈیا ایج (New Media Age) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ معلومات کی منتقلی کے ذرائع کا تیز تر ہونا ہے۔نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ذرائع ابلاغ اور صحافت میں بھی بہت تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہی۔ لہذا صحافیوں کو ڈیجیٹل رپورٹنگ کے طریقوں اور فن کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ عہدِ حاضر کے صحافی نہایت معمولی رقم کے عوض ویب سائٹ بنا سکتے ہیں اور یوں خود ایک آزاد میڈیا کا پلیٹ فارم قائم کرسکتے ہیں اور اس پر اشتہارات کے ذریعے آمدن بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں