8

کرشنگ سیزن ختم ھونے سے قبل ھی شوگر ملز ایسیوسی ایشن کی بلیک میلنگ شروع

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ )جہاں ایک طرف گنے کی کرشنگ کا سیزن اپنے جوبن پر ھے وھی شوگر ملز مافیا نے پھر سے حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ھے ۔ملکی تاریخ میی پہلی بار مکمل رقم کی اداییگی کی وجہ سے شوگر ملز مالکان کم آمدنی ھونے کی وجہ سے حکومت کو دباو میی لا کر بڑی سبسڈی کے لیے بھاگ دوڈ اور بیان بازی شروع کر دی گی ھے تفصیلات کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ گنے کی فی من قیمت 270 سے 300 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث چینی کی قیمت ایک بار پھر 100 روپے کلو سے اوپر جانے کا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے نام خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومتی احكامات کے مطابق اس سال کرشنگ عمومی تاریخ (30 نومبر) سے 15-20 روز قبل شروع کی گئی، جس کے نتیجہ میں گنے سے کی جانے والی ریکوری انتہائی کم رہی اور ملک تقریبا 3 لاکھ ٹن چینی سے محروم ہوا۔خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ گنے کی خرید و فروخت میں مڈل مین کو دخل اندازی کی اجازت قطعا نہیں دی جائے گی، اور 200 روپے فی من گنے کی قیمت یقینی بنائی جائے گی تا کہ عوام کو چینی 75 روپے فی کلو کے مناسب ریٹ پر دستیاب ہو۔
شوگرملز نے شکایت کی ہے کہ حکومتی یقین دہانی کے کے بر عکس تمام صوبوں کے کین کمشنرز مڈل مین کا کردار ختم کرانے میں مکمل ناکام رہے ہیں، جس کے باعث گنے کی فی من قیمت 270 سے 300 روپے تک پہنچ چکی ہے، نتیجتا چینی کی قیمت ایک بار پھر 100 روپے کلو سے اوپر جانے کا خدشہ ہے۔شوگر ملز ایسوسی ایشن نے خط میں درخواست کی ہے کہ شوگر ملز کو گنے کی حکومتی مقرر كرده قیمت پر فراہمی یقینی بنائیں تا کہ چینی کی قیمت نیچے لائی جا سکے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل کسانوں کو گنے کا ریٹ کبھی بھی مقررکردہ نرخ کے مطابق نہیں ملا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں