62

‘کسانا’ گیت جاری کرنے پر بھارتی لوگ جواد احمد کے مشکور

پڑوسی ملک بھارت میں گزشتہ برس ستمبر سے کسان معاشی تحفظ اور نئے زرعی قوانین کے لیے مظاہرے جاری رکھے ہیں، جن میں اب تک 70 کسان ہلاک ہوچکے ہیں۔

کسانوں کے مظاہرے بھارت کی مختلف ریاستوں پنجاب، ہریانہ، کرناٹکا اور دارالحکومت نئی دہلی سمیت دیگر کئی ریاستوں میں بھی جاری ہیں اور ہر گزرتے دن ان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 12 جنوری تک 70 کسان پولیس تشدد، بھوک، سردی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں اور کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔

کسانوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ایسی زرعی پالیسیاں بنائی جائیں جن میں کسانوں کے مالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم حکومت فوری طور ایسے قوانین بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

مذکورہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے اور عدالت نے حکومت کو حکم دے رکھا ہے فی الحال کسانوں کے حقوق پامال کرنے والی کوئی بھی قانون سازی نہ کی جائے۔

عدالتی احکامات اپنی جگہ لیکن بھارتی کسان احتجاج ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کسان اپنی تحریک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مظاہروں کے دوران شرکا کا جوش بڑھانے کے لیے گانے بھی گاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے ہی گانوں میں پاکستانی گلوکار جواد احمد کا گزشتہ ماہ دسمبر میں ریلیز ہونے والی گانا ‘کسانا’ بھی ہے، جسے گلوکار نے پنجابی زبان میں ریلیز کیا تھا۔

بھارتی لوگوں نے جواد احمد کے گانے کی سوشل میڈیا پر بھی تعریفیں کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی لکھا کہ کسانوں کے احتجاج پر پاکستانی گلوکار کو خیال آیا مگر بھارتی گلوکاروں نے ان کی مہم پر کوئی گانا تیار نہیں کیا۔

بھارت میں گانے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے حال ہی میں جواد احمد نے بھارتی میڈیا سے بات چیت کے دوران اپنے گانے کو بھارتی کسانوں کی تحریک کے نام کیا تھا۔

جواد احمد کے ‘کسانا’ کو بھارت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی چلایا جا رہا ہے کہ جب کہ اسے بھارتی سوشل میڈیا پر بھی خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

‘کسانا’ گیت جاری کرنے پر بھارتی لوگ جواد احمد کے مشکور” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں