7

وزیر اعلی پنجاب سنٹرل پنجاب سے دشمنی پر اتر آئےاور میرٹ کے خلاف اقربا پروری کے حامی نکلے

عدالتی فیصلے کے باوجود پنجاب پبلک سروس کمیشن پر پی ایم ایس نتائج روکنے کے لیے دباو ڈالنا شروع کردیا
لاھور ھایی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے یکم جنوری کو کوٹہ کالعدم قرار دیا تھا

اسلام آباد (محمد جواد )جہاں ایک طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان میرٹ کے دعوے کرتے ہیں وہیں ٹھیک دوسری طرف ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلی عثمان بزدار جو دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے کی عملی تکمیل کے لیے وزیراعظم کا ذاتی انتخاب ہیں وہ پنجاب میں میرٹ کا قتل اوراقرباپروری کو فروغ دے رھے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب پنجاب پبلک سروس کمیشن کو معزز لاھور ھائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلہ کے باوجود پی ایم ایس 19 کے 16 اسٹنٹ کمشنرز کے نتائج روکنے کے لیے دباؤ ڈال رھے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال 21جنوری کو پی ایم ایس 19کے حتمی نتائج کا پنجاب پبلک سروس کمیشن نے اعلان کیا اور 75میں سے 59 نشستوں پر تعیناتی کی سفارش کی اور 16 نشستوں پر نتائج روک لیے کیونکہ نتائج سے پہلے ھی وزیر اعلی عثمان بزدار یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ ایک مرتبہ پھر کوٹہ سسٹم کو بحال کیا جائے اور یہ باقی ماندہ نشستیں جنوبی پنجاب کو دی جائیں ۔اس ضمن میی یاد رھے کہ کوٹہ کو ٹھیک ایک سال قبل معزز لاھور ھائی کورٹ کالعدم قرار دی چکی تھی تاہم وزیر اعلی بضد رھے اور پی پی ایس سی کو مکمل نتائج روکنے کے احکامات جاری کیے اس ضمن میی مزید یہ بھی یاد رھے کہ معزز لاھور ھائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نہ ہی سٹے لیا گیا اور نہ ھی فیصلہ کی معطلی ھوئی یہاں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور پی پی ایس سی کا اقدام معزز لاھور ھائی کورٹ کے فیصلے کی تو ھین کی گی ۔مکمل نتائج کو روکنے کے بعد حکومت پنجاب نے وزیر اعلی عثمان بزدار کے احکامات کی روشنی میی لاھور ھائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو ڈبل بینچ میی چیلنج کردیا اور عدالت کی طرف سے خلاف قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیے گیے کوٹہ کی بحالی کی استدعا کردی ۔یہاں یہ امر جاننا بھی ضروری ھے کہ وزیر اعلی عثمان بزدار نے نتائج کے روکنے پر سوشل میڈیا سایٹ ٹویٹر پر اپنا پیغام بھی جاری کیاجو ان کے حلف کے ہی خلاف تھا کیونکہ وزیر اعلی عثمان بزدار پورے پنجاب کے وزیر اعلی ہیں نہ کہ جنوبی پنجاب کے چند اضلاع کے ۔معزز لاھور ھائی کورٹ کے ڈبل بینچ میں جب کیس کی سماعت شروع ھوئی تو حکومت پنجاب کی قانونی ٹیم نے جان بوجھ کر کیس کو طوالت دی اور چار پیشیوں پر معزز عدالت کے روبرو پنجاب حکومت کا کوئی نمایندہ پیش ہی نہ ھوا۔معزز لاھور ھاہی کورٹ نے ٹھیک 11ماہ کے بعد اس کیس کا تاریخی فیصلہ یکم جنوری 2020 کو سنایا ا ور حکومت پنجاب کی کوٹہ بحالی کی استدعا یکسر مسترد کردی اور کوٹہ کے اس سسٹم کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ۔معزز لاھور ھائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلہ کو 17 روز ھوچکے ھیی اور پنجاب پبلک سروس کمیشن نے اب تک باقی ماندہ 16نشستوں پر کامیاب امیدوارون کے نتائج کو روک رکھا ھے ۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ھے وزیر اعلی عثمان بزدار ان نتائج کے جاری ھونے می بڑی رکاوٹ ہیں ۔جہاں ایک طرف گذشتہ سال مکمل نتائج جاری نہ کرکے پنجاب پبلک سروس کمیشن نے عدالتی فیصلے کی تو ھین کی وہیں اب ایک بار پھر پنجاب پبلک سروس کمیشن معزز لاھور ھائی کورٹ کے فیصلے کو 17 روز گزر جانے کے باوجود کامیاب امیدواروں کا اعلان نہ کرکے توھین عدالت کی مرتکب ھورھی ھے ۔یہاں انتہائی حیرت کا مقام ھے صوبے کا چیف ایگزیکٹو خود میرٹ کے خاتمے اور اقرباپروری پر مبنی کوٹہ سسٹم کی بحالی کے لیے ھر حد تک جارھے ہیں اس ضمن میی جاننا ضروری ھے کہ 1973کے آئین میں سپیشل زونز پسماندہ علاقوں کے رہائشیوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے 20 سال کے لیے کوٹہ کا سٹم لایا گیا جس کو سال 1993میی خاتمے کے بعد مزید 20 سال کی توسیع دی گی جو سال 2013میی ختم ھوچکی ھے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں