96

پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے سنگین نوعیت کی توہین عدالت کا انکشاف

اسلام آباد (محمد جواد )پنجاب پبلک سروس جہاں ایک طرف کرپشن اور اقرباپروری کا گڑھ بن چکی ہے وہی دوسری طرف پنجاب پبلک سروس کمیشن صوبائی حکومت کی بی ٹیم بن کر معزز لاھور ھائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد سے انکاری نظر آتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق معزز لاھور ھائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے یکم جنوری کو حکم جاری کیا کہ کوٹہ ختم کرکے پی ایم ایس کی باقی مانندہ 16نشستوں پر کا میاب امیدواروں کے نتائج جاری کیے جائیں تاھم 21 روز گزرجانے کے باوجود پنجاب پبلک سروس کمیشن اب تک پی ایم ایس کے باقی مانندہ 16 نشستون پر نتائج جاری کرنے سے انکاری ہے ۔ذرائع کے مطابق لاھور ھائی کورٹ میں کوٹہ کیس ہارنے کے باوجود وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہر حال میں کوٹہ کی بحالی چاھتے ہیں اور کسی بھی طرح ان 16 نشستوں پر نتائج میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ھے کہ وزیر اعلی پنجاب نے ہی پنجاب پبلک سروس کمیشن کو دباؤ میں لاکر نتائج کو جاری کرنے سے روک رکھا ہے ۔وہیں دوسری طرف پنجاب پبلک سروس کمیشن جو ایک آئینی ادارہ ھے اپنی ساکھ کی پرواہ کیے بغیر پنجاب حکومت کی بی ٹیم بن چکاھے ۔اس حوالے سے میٹروواچ نے گزشتہ دو ہفتوں میں چھ مرتبہ پنجاب پبلک سروس کمیشن حکام سے رابطہ کیا تو پہلے ھفتہ تو عدالت کے تصدیق شدہ کاپی کی عدم وصولی کا بہانہ کیا جاتا رھا اور موجودہ ھفتہ میٹروواچ کو جواب دیا گیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کا شعبہ لاء فیصلے کا جایزہ لے رھا ھے ۔فیصلے کے جاری ھونے کے 21روز بعد تک نتائج جاری نہ ہونے پر قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے اب تک نتائج جاری نہ کرنا سنگین نوعیت کی توھین عدالت ہے۔وہی دوسری طرف امتحان پاس کرنے والے امیدوار جن کو ایک سال سے زائد عرصہ سے نتائج کا انتظار ہے ان کا کہنا تھا کہ ھمارے مستقبل سے اسطرح کھیلنا کہاں کا طریقہ ھے جب معزز عدالت فیصلہ کرچکی ھے تو پنجاب پبلک سروس کمیشن اس فیصلہ پر فوری عمل درآمد کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں