58

شاہ جہاں مسجد سندھ

شاہ جہاں مسجد سندھ کے ساحلی شہر ‘ٹھٹھہ’ میں واقع ہے۔ اسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1647 میں تعمیر کرایا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی خاص طرز تعمیر کی وجہ سے بغیر لاؤڈ سپیکر آواز پوری مسجد میں گونجتی ہے۔
مسجد کا فن تعمیر بہت خاص ہے، جس پر مغل طرز تعمیر کی چھاپ نمایاں ہے، اس مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے اندرون سندھ سے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔
مغل بادشاہ شاہ جہاں کو دنیا بھر میں ان کی خوبصورت و منفرد عمارات کی وجہ سے جانا جاتا ہے جنھوں نے برصغیر کی خوبصورتی میں چارچاند لگادیئے۔
ایسا ہی ایک شاہکار ٹھٹھہ کی جامی مسجد ہے جسے ‘شاہ جہاں مسجد’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جسے مغل بادشاہ نے ٹھٹھہ کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تعمیر کرایا، کیونکہ انھوں نے تخت پر بیٹھنے سے قبل جلاوطنی کے شکار شاہ جہاں کی کافی مدد کی تھی۔
اس مسجد کے 100 گنبد ہیں۔گنبدوں کے لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔
سولہویں صدی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد ماضی اور حال کا خوبصورت امتزاج ہے، جس سے ہماری دھرتی کی ثقافت کی مہک محسوس کی جاسکتی ہے۔
سنگ مرمر کی ٹائلوں کا سائز اور سجاوٹ تیموری اسکول کی خاصیت ظاہر کرتی ہے جو کہ روایت مغل انداز سے مختلف ہے، نیلے رنگ کی ٹائلز سے گرم موسم میں بھی مسجد کا اندرونی ماحول ٹھنڈا رہتا ہے۔
وسطی گنبد مینار کے بغیر کھڑا ہے جبکہ روایتی ٹاور مسلم فن تعمیر سے ملتا جلتا ہے جس میں مغل اور ترک فن تعمیر کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
اس مسجد کی ایک منفرد خاصیت اس کے چاروں کونے ہیں جوکہ بالکل الگ ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اس کی خاص طرز تعمیر کی وجہ سے بغیر لاؤڈ سپیکر آواز پوری مسجد میں گونجتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

شاہ جہاں مسجد سندھ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں