2,018

“افغانستان – پاکستان اعلان امن ” کانفرنس کے اختتامی بیان کے نتائج کی رئیس عام نے ستائش کی ۔
انہوں نے کانفرنس کے ان بابرکت تجاویز کی تعریف کی جن سے افغانستان میں امن و امان بحال ہوں گے

مسجدحرام اور مسجد نبوی کے امورکے رئیس عام شیخ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے ” افغانستان میں اعلان امن ” کانفرنس کے اختتامی بیان کے تجاویز کی تعریف کی جو کہ رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ میں منعقد کی گئی اورجو مسلمانوں کے بیچ شیرازہ بندی ، اختلاف کے خاتمے ، سلامتی کے پھیلاؤ ، جان کی حفاظت اور باہمی تعاون و ہم آہنگی میں روشن اسلامی شریعت کے مبادی کی تاکید پر مشتمل ہے ۔
شیخ سدیس نے زور دیا کہ مملکت سعودی عرب کی تاریخ مسلمانوں کےمسائل کے حل اور سلامتی کے اصول و مبادی کی ترسیخ اور رشتوں کی مضبوطی کے لیے سیاسی اور جائز حل کی تلاش کے سلسلے میں روشن اقدامات سے پر ہے ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے مصداق :
( ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا )
شیخ عالی وقار نے فرمایا کہ آپس میں میل جول کی کوشش اسلامی شریعت کے عظیم مقاصد میں سے ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزہ ، نماز اور صدقہ سے بڑھ کر ہے ؟ صحابہ نے کہا کیوں نہیں ؟ آپ نے فرما: آپس میں میل جول کرادینا اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے ) اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔
یہ شاہ عبدالعزیز طیب اللہ ثراہ کے ہاتھوں اس کی تاسیس کے دن سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ تک ہماری قیادت رشیدہ کا شیوہ ہے ۔
عالی وقار شیخ نے زور دیا کہ مملکت سعودی عرب اسلامی جمہوریہ افغانستان کے اندر سلامتی اور مصالحت کے عمل کی مضبومی میں اہم اور بنیادی کردار ادا کررہی ہے جس کی وجہ اس کی یہ شدید خواہش ہے کہ پائیدار سلامتی کے حصول اور امن و استقرار اور خوشحالی وترقی کی بحالی کے سلسلے میں ہمارے اپنے بھائی افغانی عوام کی امیدوں اور امنگوں کی تکمیل ہو ۔
معالی الشیخ نے مختلف افغانی فریقوں کے بیچ مصالحت اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کے اندر سلامتی کے ستونوں کی مضبوطی کے لیے اس کانفرنس کے انعقاد میں رابطہ عالم اسلامی کی کوششوں کو سراہا ۔اس کی پیش رفت ” افغانستان میں اعلان امن ” کا افغانستان و پاکستان ہر دوفریق کی حکومت و عوام نے استقبال کیا ۔ یہ بات اس اتفاق میں عملا ظاہر ہوتی ہے جو سلامتی کے عمل کی کامیابی کے لیے کی گئی کوششوں کی تائید پر کیا گيا۔
سدیس نے اشارہ کیا کہ اس کانفرنس کا انعقاد امت مسلمہ کے معاشرتی تانے بانے کے اندر تمام تناز‏عات اور اختلافات کے حل کے سلسلے میں مملکت سعودی عرب کی اسلامی قیامت ، عظیم اہتمام اور تعاون کے تحت رابطہ عالم اسلامی کے کردار کو نمایاں کرتا ہے ۔
اخیرمیں شیخ عالی وقار نے دعا کی کہ اللہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد عالی وقار شہزادہ محمد بن سلمان کی حفاظت فرمائے ، مسلمانوں کے ملکوں کی ہر ناپسندیدہ چيز سے حفاظت فرمائے اور اس بابرکت ملک پر امن ، امان ، خوشحالی ، استقرار اور ترقی کو مدام کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں