73

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جوناگڑھ

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں “جوناگڑھ ہے پاکستان” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر نوجوانوں کو ریاست جوناگڑھ کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا گیا۔ ریاست جوناگڑھ کی مناسبت سے خصوصی لیکچر کے لیے نواب آف جوناگڑھ نواب جہانگیر خانجی اور دیوان آف جونا گڑھ و چئیرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی کو مدعو کیا گیا تھا۔ مقررین نے کہا کہ جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق نواب محابت خانجی اور قائداعظم محمد علی جناح کے دستخط سے ہوا۔ نواب آف جوناگڑھ نواب محمد مہابت خانجی نے نظریہ پاکستان کے تحت پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ اس وقت بھی وزیرِ اعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے واضح کیا تھا کہ بھارتی فوجی قبضے تلے ریفرنڈم نہیں ہو سکتا اور عالمی قوانین کے تحت جوناگڑھ پاکستان کا حصہ ہے۔ جوناگڑھ ہمارا تاریخی اور قانونی حق ہے اور زندہ قومیں اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوتیں چنانچہ ہم بھی اپنے حق کیلئے لڑتے رہیں گے۔ لیکچر کے دوران نواب جہانگیر خانجی اور دیوان صاحبزادہ سلطان احمد علی نے واضح کیا کہ مسئلہ جوناگڑھ اور مسئلہ کشمیر بھارتی کی دوغلی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ دونوں تنازعات بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ جوناگڑھ کے مقدمات ہمیں بیک وقت عالمی سطح پہ لڑنے چاہئیں۔ بھارتی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کیا جائے کہ وہ عالمی قوانین کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ اس موقع پر جوناگڑھ سے متعلق پاکستان کے قانونی مؤقف پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے بتایا کہ جوناگڑھ تقسیمِ برصغیر کا ایک اور نامکمل ایجنڈا ہے۔ تقسیمِ ہند کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ کسی علاقے پر زبردستی قبضے کی پالیسی کبھی بھی مستقل نہیں رہتی۔ مسئلہ جوناگڑھ کے کئی سیاسی، سفارتی اور قانونی پہلو ہیں۔ حیدرآباد، کشمیر اور جوناگڑھ الگ الگ مسئلے تھے لیکن بھارت نے سب پر اپنی فوج کے ذریعے غیر قانونی قبضہ کیا۔ سفارتی سطح پر ہمیں جوناگڑھ کے لیے مزید فیصلے کرنے ہوں۔ لوگوں کی آگاہی کے لیے اس طرح کے سیمینار ہونے چاہئیں۔ ہمیں جوناگڑھ کے لیے ہر فورم خصوصی طور پر عالمی سطح بات کرنی چاہیے۔ ہر پاکستانی کا قومی فرض ہے کہ وہ مسئلہ جوناگڑھ کے پر امن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ نواب آف جوناگڑھ جہانگیر خانجی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزارتِ خارجہ میں جوناگڑھ ڈیسک قائم کیا جانا چاہئے جو جوناگڑھ کے مسئلہ پر مختلف عالمی حلقوں میں آگاہی پیدا کرے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت میں جوناگڑھ ہاؤس کا قیام عمل میں لانا چاہئے۔ دیوان آف جوناگڑھ صاحبزادہ سلطان احمد علی کا کہنا تھا کہ مسئلہ جوناگڑھ پر مختلف یونیورسٹیز میں تحقیق سرگرمیوں کو فروغ دیا جانا چاہئے تاکہ نئے ابھرتے عالمی تناظر کے مطابق پاکستان کے مؤقف کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں