13

عمران خان کی 2 حلقوں میں کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیئے گئے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قومی اسمبلی کے 2 حلقوں میں کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں لیکن عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے باعث چند حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملک بھر سے 5 قومی اسمبلی کے حلقوں سے نشستیں جیتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے ان کی دو حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 53 اسلام آباد کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے حتمی فیصلے تک روکا گیا ہے جب کہ عمران خان کی این اے131 سے کامیابی کا نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔
ووٹ کی رازداری کا معاملہ: الیکشن کمیشن نے عمران خان کو طلب کرلیا
ترجمان الیکشن کمیشن الطاف خان نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ دو حلقوں میں عمران خان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں زیر سماعت کیسوں کی وجہ سے روکے گئے ہیں جب کہ تین حلقوں میں ان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عمران خان کی بنوں، کراچی اور میانوالی سے کامیابی کا مشروط نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، تین حلقوں سے عمران خان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط ہو گا۔
عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باعث روکا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 53 میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا تو کامیابی کے تینوں مشروط نوٹیفکیشن منسوخ ہوجائیں گے۔
الیکشن کمیشن انتقال اقتدار پر غیر سنجیدگی نہ دکھائے، فواد چوہدری
کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے پر تحریک انصاف کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔

پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ انتخابات کے بعد انتقال اقتدار کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، اس میں تعطل سے ملک اور عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ معاشی مسائل اور پالیسی مسائل مزید پیچیدہ ہونے کے امکانات ہیں، یہ سب مسائل براہ راست ملک پر شدت سے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعطل اور تاخیر سے انتخابات پر شکوک و شبہات جنم لیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار الیکشن کمیشن اور ماتحت عدالتوں سے پیدا تعطل کا خود جائزہ لیں۔

یاد رہے کہ 25 جولائی کو پی ٹی آئی چیئرمین نے ووٹ کی رازداری کا خیال نہیں رکھا تھا اور کیمروں کے سامنے بلے پر نشان لگایا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا۔

عمران خان این اے 35 بنوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 95 میانوالی، این اے 131 لاہور اور این اے 243 کراچی سے کامیاب ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں