8

آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار شہباز شریف کو کچھ دیر میں احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا

لاہور:آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف کو آج احتساب عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لیا جائےگا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کو اُن کا وکیل مقرر کیا گیا ہے۔

احتساب عدالت کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے—۔جیو نیوز
شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، احتساب عدالت کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور عدالت آنے والے راستے بند کردئیے گئے ہیں۔

احتساب عدالت کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکن بھی بڑی تعداد میں جمع ہیں، جن کی جانب سے نعرے بازی کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب عدالت میں آج کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں اور نہ ہی میڈیا کو کوریج کی اجازت ہے۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا، تاہم اُن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب لاہور کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھا گیا، جس میں ڈی جی نیب لاہور کی اسپیکر سے ٹیلی فون پر گفتگو کا حوالہ دیا گیا، اس خط میں پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کے خلاف تحقیقات کا ذکر ہے۔

گزشتہ روز شہباز شریف کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی مسلم لیگ (ن) کے کارکن لاہور نیب دفتر کے باہر پہنچے اور شہباز شریف کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، جس پر نیب لاہور کے باہر سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے رینجرز کے دستے تعینات کر دیئے گئے۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈی جی فواد حسن فواد کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کی آخری پیشی پر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو آمنے سامنے بٹھایا گیا۔ نیب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر فواد حسن فواد نے کہا تھا کہ ‘میاں صاحب آپ نے جیسے کہا میں ویسے کرتا رہا’۔

شہباز شریف کی گرفتاری، نیب نے تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

نیب کے مطابق شہباز شریف پر الزام ہے کہ انھوں نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب آشیانہ اسکیم کے لیے لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر منسوخ کروا کے پیراگون کی پراکسی کمپنی ‘کاسا’ کو دلوا دیا۔

نیب کا الزام ہے کہ شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا اور پھر یہی ٹھیکہ پی ایل ڈی سی کو واپس دلایا جس سے قومی خزانے کو 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسلٹنسی کانٹریکٹ ایم ایس انجینئر کسلٹنسی کو 19کروڑ 20 لاکھ روپے میں دیا جبکہ نیسپاک کا تخمینہ 3 کروڑ روپے تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں