5

کرپشن پر قابو پائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان حکومت کی 100 روزہ کارکردگی قوم کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

کنوینشن سینٹر اسلام آباد میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 100 دن کا کریڈٹ بشریٰ بی بی کو دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی پر ظلم دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے، انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہے اور نیت جو اللہ جانتا ہے، کامیابی اللہ دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 100 دن میں وہ کرنے کی کوشش کی جو راستہ ہم نماز میں مانگتے ہیں، یعنی نبی ﷺکا راستہ مانگتے ہیں، انہوں نے جو مدینے کی ریاست میں کیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے مدینہ کی ساری پالیسیز رحم پر بنائیں، عام انسان کو اوپر لانے کے لیے جو کبھی نہیں ہوا، دنیا کی تاریخ اٹھا لیں کسی ریاست میں یہ نہ ہوا جو مدینہ میں ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ساری پالیسیز کمزور طبقے کے لیے بنائی گئیں، زکوۃ پیسے والوں سے لے کر غریبوں کو دی گئی، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا گیا، ہمارے نبی ﷺنے فیصلہ کیا انسانی معاشرے میں کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 100 دن میں ہم نے کوشش کی کہ جو بھی پالیسی بنے اس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔

عمران خان نے بتایا کہ بھارت سے دوستی کے پیچھے بھی تجارت کو بڑھانا وجہ تھی۔

تعلیمی پالیسی:
وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے تعلیم کا نظام کیسے ٹھیک کریں، وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو مشکل سے بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک میں تین تعلیمی نظام بنائے ہوئے ہیں، ایک چھوٹے طبقے کے لیے انگلش میڈیم اسکول بنا دیئے، ہم نے تعلیمی نظام میں تفریق سے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا، کوشش ہے یکساں تعلیمی نظام لے کر آئیں تاکہ غریب کے بچے پڑھ کر اوپر آئیں، غریبوں کے بچوں کو اسکول لانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

صحت کی پالیسی:
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صحت کے نظام میں سرکاری اسپتالوں کو ٹھیک کر رہے ہیں، اسپتالوں میں دو معیار ہیں، سرکاری اور نجی، اگر پیسہ ہے تو اچھا علاج کرالیں ورنہ ہمارا نظام ایسا ہے جس میں گورنمنٹ سیکٹر پرائیوٹ سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت انصاف کارڈ سب سے اہم ہے، اس پروگرام کے ذریعے خیبر پختونخوا میں بہت کامیابی ہوئی، عام آدمی کو صحت کارڈ سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ غریب گھرانے کا بجٹ ایک بیماری میں تباہ ہو جاتا ہے، اس لیے لوگوں نے اس صحت کارڈ کو بہت پسند کیا، 5 لاکھ سے زائد صحت کارڈ جاری کیے، یہ ان کے لیے برے وقت کا انشورنس ہے، سب غریب گھرانوں کو ملک بھر میں صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

غربت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک اتھارٹی بنا رہے ہیں جس میں غربت کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ غریبوں کو بلا سود قرض کی فراہمی کے لیے فلاحی ادارے اخوت کو 5 ارب روپے دے دیئے ہیں، اس کے علاوہ ہاؤسنگ، تعلیم اور خوراک کی فراہمی کے منصوبوں کے ذریعے بھی غربت کو ختم کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ 43 فیصد بچوں کو مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشونما نہیں ہوتی، فیصلہ کیا ہےکہ 40 لاکھ بچوں اور حاملہ خواتین کو، اور تین سال تک کے بچوں کو صحت پروگرام کے تحت انہیں خوراک فراہم کریں گے جس سے ان میں غذائیت کی کمی پوری ہو گی، کوشش ہوگی کہ پانچ برسوں میں ان اعدادو شمار کو 43 سے 30 فیصد تک لے آئیں۔

کرپشن کا خاتمہ
عمران خان کا کہنا تھا کہ 22 سال سے وعدہ کر رہا تھا کرپشن پر قابو پائیں گے، یہ مین پلان تھا، کرپشن غربت پیدا کرتی ہے، امیر اور غریب ملک میں کرپشن کا فرق ہے، جو امیر ملک ہے وہاں کرپشن نہیں، جہاں خوشحالی ہے وہاں کرپشن نہیں اور جن ممالک میں غربت ہے وہاں اس کی وجہ کرپشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو اللہ نے پاکستان کو دیا ہے شاید ہی کسی ملک کو دیا لیکن ہم کرپشن کی وجہ سے پیچھے رہ گئے، 100 دنوں میں اداروں کے حال دیکھے، یہ ادارے صرف کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی تباہی کا باعث بننے والی دو چیزیں سامنے آئی ہیں، اگر میں نے پیسہ بنانا ہے تو جب تک اداروں کو تباہ نہیں کروں گا پیسہ نہیں بنا سکتا، مجھے کرپشن کے لیے ایف بی آر کو تباہ کرنا پڑے گا، اگر وہ تباہ ہوا تو ملک پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتا۔

دوسرا یہ کہ اگر میں نے نیب سے بچنا ہے تو یہ ادارہ صرف چھوٹے چوروں کو پکڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ ملک میں کس سطح کی چوری ہوئی ہے، مجھے بھی اندازہ نہیں تھا، اب تک اداروں سے پتا چل رہا ہے اور ہر روز کوئی نیا انکشاف ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب بڑے چوروں کی بات کرتا ہوں تو چند لوگ گلا پھاڑ کر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے، انہیں خوف ہے کہ سب کو پتا چل جائے گا کہ ان لوگوں نے ملک کو کیسے لوٹا، جب تک کرپشن پر قابو نہیں پاتے ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ نیب ہمارے ماتحت نہیں، ایک آزاد ادارہ ہے، نیب میں کوئی چپڑاسی بھی ہم نے بھرتی نہیں کرایا، سب پہلے کی بھرتیاں ہیں، جو نیب کرتا ہے ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے، نیب میں سزا کا تناسب 7 فیصد ہے، جو اس سے بہت زیادہ ہونا چاہیے، نیب پلی بارگین پر انحصار کرتا ہے اور نیب اس سے بہت بہتر کام کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے منشور میں لکھا تھا کہ نیب کو بااختیار کریں گے، بدقسمتی سے اسے با اختیار نہیں کر سکے۔

منی لانڈرنگ کی روک تھام
وزیراعظم نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم تھے نہ چیزیں خرید سکتے تھے نہ قسطیں دے سکتے تھے، دیگر ملکوں میں مدد مانگنے گئے، دوسرے ملکوں سے پیسہ اکٹھا کرنا شروع کیا، 12 ارب ڈالر کی کمی تھی لیکن دیگر ممالک سے بہت اچھا جواب ملا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا، اس کا کام یہ تھا کہ باہر کے ملکوں سے ایم او یو سائن کرے تاکہ معلومات لے سکیں، 26 ملکوں کے ساتھ معاہدے ہوئے، سوئٹزرلینڈ سے بہت دیر سے کوشش کر رہے تھے اور ان کے ساتھ بھی آج معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاوہ 26 ملکوں سے ابھی تک پاکستانیوں کی جانب سے چھپائے گئے 11 ارب ڈالرز کا پتہ چلا ہے، 12 ارب ڈالرز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ابھی صرف 26 ملکوں سے اطلاعات ملی ہیں، سوئٹزرلینڈ ابھی باقی ہے، یہ پیسہ غیرقانونی ہے، کاروباری حضرات کا ہے یا چوری کا، یہ بعد میں پتا چلے گا۔

عمران خان نے کہا کہ دبئی سے بینک اکاؤنٹس کی جو تفصیلات ملی ہیں اس کے مطابق پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباً ایک ارب ڈالر موجود ہیں لیکن اقامے والوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات انہوں نے ہمیں فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اب پتا چلنا چاہیے کہ کیوں ملک کا وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ اقامہ لے رہے ہیں، ہمیں کیوں اقامے کی ضرورت نہیں پڑی، پچھلے وزیراعظم کو کیوں اس کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اقامہ مل جائے تو بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات نہیں فراہم کی جاتیں، جب بھی کہیں اکاؤنٹس کی تفصیلات لیں گے تو ان کے اکاؤنٹس نہیں آئیں گے، جب ملک کے وزیر اقامہ لیں تو وہ منی لانڈرنگ کر رہے ہیں اور اگر ملک کے وزراء ہی منی لانڈرنگ کر رہے ہوں تو پھر اس کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

گزشتہ چار برسوں میں پاکستانیوں نے دبئی میں 9 ارب ڈالرز کی جائیداد خریدیں، کیوں کسی نے کچھ نہیں کیا، ان کو فکر نہیں تھی کہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہے۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 16 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گیا، ایک طرف قرض مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف کوئی فکر نہیں کہ اربوں ڈالر باہر ہیں پتا کریں کہ کیسے گئے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا ایف آئی اے سے پتا چلا ہے، ایف آئی اے نے 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں، ان اکاؤنٹس میں یہ پیسہ آ کر گیا جو منی لانڈرنگ کا طریقہ کار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو منی لانڈرنگ پر ہاتھ ڈال رہی ہے، وعدہ تھا کرپشن پر ہاتھ ڈالوں گا، ایف آئی اے کو مضبوط کیا جائے گا اور جو بھی منی لانڈرنگ کرے گا ان کے لیے مشکل ہو گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم تھے نہ چیزیں خرید سکتے تھے نہ قسطیں دے سکتے تھے، دیگر ملکوں میں مدد مانگنے گئے، دوسرے ملکوں سے پیسہ اکٹھا کرنا شروع کیا، 12 ارب ڈالر کی کمی تھی لیکن دیگر ممالک سے بہت اچھا جواب ملا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا، اس کا کام یہ تھا کہ باہر کے ملکوں سے ایم او یو سائن کرے تاکہ معلومات لے سکیں، 26 ملکوں کے ساتھ معاہدے ہوئے، سوئٹزرلینڈ سے بہت دیر سے کوشش کر رہے تھے اور ان کے ساتھ بھی آج معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاوہ 26 ملکوں سے ابھی تک پاکستانیوں کی جانب سے چھپائے گئے 11 ارب ڈالرز کا پتہ چلا ہے، 12 ارب ڈالرز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ابھی صرف 26 ملکوں سے اطلاعات ملیں ہیں، سوئٹزرلینڈ ابھی باقی ہے، یہ پیسہ غیرقانون ہے، بزنس مین کا ہے یا چوری کا، یہ بعد میں پتا چلے گا۔

عمران خان نے کہا کہ دبئی سے بینک اکاؤنٹس کی جو تفصیلات ملی ہیں اس کے مطابق پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس میں تقریبا ایک ارب ڈالر موجود ہیں لیکن اقامے والوں کے اکاؤنٹس انہوں نے ہمیں نہیں دیئے۔

انہوں نے کہا کہ اب پتا چلنا چاہیے کہ کیوں ملک کا وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ اقامہ لے رہا ہے، ہمیں کیوں اقامے کی ضرورت نہیں، پچھلے وزیراعظم کو کیوں اس کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اقامہ مل جائے تو بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات نہیں فراہم کی جاتیں، جب بھی کہیں اکاؤنٹس کی تفصیلات لیں گے تو ان کے اکاؤنٹس نہیں آئیں گے، جب ملک کے وزیر اقامہ لیں تو وہ منی لانڈرنگ کر رہے ہیں اور اگر ملک کے وزراء ہی منی لانڈرنگ کر رہے ہوں تو پھر اس کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

پچھلے چار سالوں میں پاکستانیوں نے دبئی میں 9 ارب ڈالرز کی جائیداد لی، کیوں کسی نے کچھ نہیں کیا، ان کو فکر نہیں تھی کہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہے۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 16 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گیا، ایک طرف قرض مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف کوئی فکر نہیں کہ اربوں ڈالر باہر ہے پتا کریں کہ کیسے گئے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا ایف آئی اے سے پتا چلا ہے، ایف آئی اے نے 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں، ان اکاؤنٹس میں سے یہ پیسہ آ کر گیا جو منی لانڈرنگ کا طریقہ کار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو منی لانڈرنگ پر ہاتھ ڈال رہی ہے، وعدہ تھا کرپشن پر ہاتھ ڈالوں گا، ایف آئی اے کو مضبوط کیا جائے گا اور جو بھی منی لانڈرنگ کرے گا ان کے لیے مشکل ہو گا۔

ٹیکس ریفارمز:
ملک کی 21 کروڑ عوام میں سے صرف 72 ہزار ایسے افراد ہیں جو اپنی آمدن ماہانہ 2 لاکھ سے زائد آمدن ظاہر کرتے ہیں، جس کا بوجھ پورا ملک برداشت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس کے نظام کو ٹھیک کرنا ہے اور اسمگلنگ کو روکنا ہے، اسمگلنگ کی وجہ سے جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں نقصان پہنچتا ہے اور جو ٹیکس نہیں دیتے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔

بلیک اکانومی ہماری خوشحالی روکتی ہے، ہماری انویسٹمنٹ روکتی ہے، جسے ہم نے ٹھیک کرنا ہے۔

سیاحت:
وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کی سالانہ آمدن سیاحت کے ذریعے 20 ارب ڈالر ہے جب کہ پاکستان کے پاس بہت بڑا ساحل موجود ہے، اس کے علاوہ ہمارے ہاں مذہبی سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، سکھوں، ہندوؤں اور بدھ مت کا سب سے بڑا مجسمہ بھی پاکستان میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے شمالی علاقہ جات میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ پہاڑ موجود ہیں، دنیا کے بڑے پہاڑوں میں سے 6 ہمارے شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا میں 2013 سے 2018 تک غربت آدھی ہو گئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سیاحت ہے۔

لیگل ریفارمز:
عمران خان کا کہنا تھا کہ سول پروسیجر کورٹ کو بدلنا چاہتے ہیں، اس نظام کے تحت عدالتوں کو ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر فیصلہ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی قانون لا رہے ہیں جس کے ذریعے بیواؤں کو تیز تر انصاف ملے گا اور خواتین کو ان کا قانونی حق ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے لیے بھی قانون سازی کر رہے ہیں، جو یہاں گھر خریدتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو ان کے گھروں پر قبضے ہو چکے ہوتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیگل ایڈ اتھارٹی بنا رہے ہیں جس کے تحت غریب آدمی کے لیے وکیل حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ وسل بلور ایکٹ بھی لا رہے ہیں جس کے تحت کوئی بھی کسی ادارے میں کرپشن کی نشاندہی کرے گا تو اس کو ریکوری کا 20 فیصد دیا جائے گا اور حکومت اس شخص کا نام بھی صیغہ راز میں رکھے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تنخواہ دار اور نچلا طبقہ تکلیف میں ہے، قیمتیں بڑھنی ہی تھیں اور مجھے اس چیز کا احساس ہے، جتنی کوشش کر سکتے ہیں ہم کر رہے ہیں، ساری وزارتوں کو کہا کہ پیسے بچائیں، گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے اب تک 13 کروڑ اور میں نے 15 کروڑ روپے بچائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ مذاق کر رہے ہیں کہ ہم نے بھینس فروخت کر دی، یہ بھینس بیچنے کی بات نہیں بلکہ عوام کے پاس کھانے کو پیسہ اور رہنے کے لیے رہائش بھی نہیں ہے، ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن آگے آنے والے دن آسان نہیں مشکل ہیں، 10 سالوں میں قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہو گیا، ہم نے جو قرضہ لیا ہے وہ واپس تو کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے لیکن یقین دلاتا ہوں کہ جس طرح سے بیرون ملک سے سرمایہ کار یہاں آ رہے ہیں، لوگوں کو پتا ہے کہ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور حکومت کرپٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیم کی راہ میں حائل رکاؤٹیں دور کی جا رہی ہیں، اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور پہلے گھر اس لیے نہیں بنے کہ گھروں کے لیے جو قرضہ چاہیے وہ پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ سے 40 صنعتیں براہ راست تعلق ہوتا ہے، اس اسکیم سے سارے معاشرے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو روزگار ملے گا اور غریبوں کو گھر بنانے کا موقع ملے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سب کہتے ہیں کہ کس کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا، یہ سادہ آدمی ہے، کوئی بڑا ڈرامہ نہیں، بڑی ٹوپیاں پہن کر نہیں گھومتا۔

عمران خان نے کہا کہ اب تک پنجاب نے 88 ہزار ایکڑ کی زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی ہے جس کی قمیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔

بجلی چوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے کہ بجلی چوری ہوتی ہے، پہلی دفعہ حکومت بجلی چوری کے پیچھے گئی ہے، ہر سال 50 ارب روپے کی چوری ہوتی ہے، اب تک بڑے چوروں پر 6 ہزار مقدمات درج کر لیے ہیں۔

آئی ایم ایف سے جو بھی معاہدہ ہوگا قوم کے سامنے لائیں گے: اسد عمر
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ مشکلات ضرور ہیں لیکن عمران خان کے وژن کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 100 دن کے منصوبے میں سمت کا تعین کیا گیا، 100 روز میں وزیراعظم نے سب سے زیادہ یہ پوچھا کہ بتاؤ غریبوں کے لیے کیا کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ماہانہ دو ارب ڈالر کا بیرونی خسارہ ہو رہا تھا جو اب ایک ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ جب حکومت ملی تو بجٹ خسارہ 2300 ارب ڈالر تھا، حکومت ملنے سے پہلے تین ماہ میں 9 ارب ڈالر خسارہ تھا، عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا، امیروں پر ٹیکس لگایا گیا۔

اسد عمر نے کہا کہ دو سال پہلے پتا چلا کہ اسٹیل مل کے ریٹائرڈ ملازمین کی بیواؤں کی پنشن کو روکا گیا ہے، ہم ان بیواؤں کا قرض ادا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب قوم کی بہتری کے لیے یوٹرن لینا ہو تو وزیراعظم یوٹرن لینے کے لیے تیار ہیں، آج کے اپوزیشن لیڈر پہلے کہتے تھے کہ فلاں کا پیٹ پھاڑ کر پیسا نکالوں گا، سڑکوں پر گھسیٹوں گا، آج یہ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ وہ میرے بھائی ہیں یہ ہوتا ہے یوٹرن۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا پیٹ کاٹنے،کھمبے سے لٹکانے والےکو بھائی کہنا یوٹرن نہیں یہ اپنی چوری کو بچانے کی ترکیب ہے، ماضی میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے بھائی بن گئے، کیا یہ یوٹرن نہیں؟

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پیچھے نہیں چھپیں گے، آئی ایم ایف سے جو بھی معاہدہ ہوگا قوم کے سامنے لائیں گے، لوگ پوچھتے ہیں یہ سب کرنے کے لیے پیسا کہاں سے آئے گا، اس کے لیے ملک کی معیشت میں 6 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کو پیچھے چھوڑ کر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، آنے والے 5 برسوں میں ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان ناکام ہو ہی نہیں سکتا، یہ ملک اللہ کا انعام ہے، قائداعظم کی کاوش اور علامہ اقبال کا خواب ہے۔

سو روز میں 36 میں سے 18 اہداف حکومت نے حاصل کیے: ارباب شہزاد
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ 36 میں سے 18 اہداف حکومت نے 100 دن میں حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے کہا پانی کے تحفظ اور خوارک کے تحفظ کے لیے بنیادی کردار ادا کریں گے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا۔

شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ سوشل پروٹیکشن پروگرام وزیراعظم کے دل کے بہت قریب ہے، یہ پروگرام حکومت کے فلیگ شپ پروگراموں میں سے ایک ہو گا اور اس پروگرام سے دو کروڑ افراد کو غربت سے نجات ملے گی۔

بلین ٹری سونامی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ 10 بلین ٹری سونامی، دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے بھرپور شجرکاری مہم ہے، اس مہم کے ذریعے پانچ سال میں ملک بھر میں 10 بلین درخت اگائے جائیں گے۔

جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کا تحریک انصاف نے نہ صرف وعدہ بلکہ عزم بھی کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 جون 2019 سے پہلے جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکریٹریٹ بنا دیا جائےگا۔

شہزاد ارباب نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب کے لیے الگ ایڈیشنل سیکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی تعینات ہوں گے اور جنوبی پنجاب کے لیے الگ سالانہ ترقیاتی پروگرام ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ فاٹا کا مرحلہ وار انضمام ابھی جاری ہے، فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کو حتمی شکل دے رہے ہیں جب کہ قبائلی اضلاع میں تیز رفتار ترقی کے لیے پروگرام پر آئندہ دو ماہ میں کام شروع ہوجائے گا۔

شہزاد ارباب کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجتھے ہیں اور بلوچستان کے عوام کی اجنبیت کا احساس ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قیادت سے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے قیام کے 100 روز پورے ہوگئے ہیں اور وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور وزراء نے اپنے اداروں اور محکموں کی رپورٹس وزیراعظم کو پیش کردیں جس پر انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کی ترقی کی سمت کا تعین کردیا ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیار زندگی بلند کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں جن کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں