7

اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ کیس: ’ٹھیکیداروں کو پیسے ادا کیے جائیں‘

سپریم کورٹ میں اورنج لائن منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے منصوبے کے ٹھیکیداروں کو ان کی رقم ادا کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت تھیکیدار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹھیکیداروں نے بنک گارنٹیاں جمع کرا دی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے لیے یہ گارنٹیاں قابل قبول ہیں جس پر ایل ڈی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ جی ہمیں قبول ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سنا ہے ایل ڈی اے بورڈ میں پراپرٹی ڈیلرز ڈال دیے گئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مفادات کا تصادم ہے، پہلے بھی ہم نے ایل ڈی اے سٹی کی بربادی بھی اسی وجہ سے دیکھی ہے‘۔

چیف جسٹس نے نے ٹھیکیداروں کو پیسے ادا کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کام ٹھیک نہیں ہوگا تو ان کو پکڑ کر پیسے واپس لیں گے‘۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی کمپنیوں کو بر وقت ادائیگیوں کی بھی ہدایت کی تھی۔

ٹھیکیدار کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا تھا کہ ایل ڈی اے پر 60 کروڑ میرے مؤکل کے اور 40 کروڑ روپے دوسرے ٹھیکیدار پر واجب الادا ہیں۔

تاہم ایل ڈی اے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ادائیگی کے لیے کمپنیوں کے کام کی پیمائش ہونی ضروری ہے۔

بعد ازاں عدالت نے تعمیراتی کمپنیوں کو ایل ڈی اے کو ایک ارب روپے کی بینک گارنٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل اور کمپنیوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ایک عدالتی ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں