6

شکست کا ملبہ صرف کھلاڑیوں پڑ کیوں؟

پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کی مکمل تباہی کے بعد مایوس قوم کے پاس کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جسے وہ مکمل توجہ اور دلچسپی سے دیکھتی ہے۔ قومی کھلاڑیوں کی جانب سے کھیلے گئے ہر اچھے شاٹ پر شائقین دل کھول کر داد دیتے ہیں جبکہ قومی کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر ان کا دل بیٹھ جاتا ہے۔

کرکٹ کا کھیل اس وقت واحد سرگرمی ہے جو پوری قوم کو یکجا کردیتی ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں کرکٹ کا کھیل ایک ایسے گرداب میں پھنس گیا ہے جہاں فتوحات سے زیادہ ناکامیاں اس کا مقدر بن رہی ہیں۔ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کے مقابلے میں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کو تواتر کے ساتھ شکستوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ شکستیں صرف بیرونِ ملک کھیلی جانے والی سیریز تک محدود نہیں ہیں بلکہ اب تو متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں بھی قومی ٹیم کو شکستوں کا مسلسل منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔

امارات میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شکست کے باوجود تجزیہ کار اور شائقینِ کرکٹ دورہءِ جنوبی افریقہ میں قومی ٹیم سے بہتر کارکردگی کی امید لگائے بیٹھے تھے کیونکہ جنوبی افریقہ کی موجودہ ٹیم ماضی کی ٹیموں کے مقابلے میں اتنی مضبوط نہیں تھی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل ناکامیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جہاں کھلاڑی میدان میں ناکام ہورہے ہیں وہیں شکست کے خوف سے دوچار ٹیم مینجمنٹ بھی فیصلے کرنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہے۔

کوچ مکی آرتھر
پاکستان کرکٹ کے بہت سے ناقدین اور ماضی کے چند نامور کرکٹرز ٹیسٹ کرکٹ میں ہونے والی مسلسل ناکامیوں کے تناظر میں سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن میری رائے میں سرفراز احمد سے زیادہ ٹیم مینجمنٹ ان ناکامیوں کی زمہ دار ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور سے ٹیم کی مسلسل شکستوں کے بارے میں باز پرس کرے اور اگر وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں تو ان کو تبدیل کردیا جائے۔

مکی آرتھر ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے قومی ٹیم کی کوچنگ کر رہے ہیں لیکن چند ایک کامیابیوں کے علاوہ ان کی کوچنگ کے ٹیم پر مثبت اثرات نظر نہیں آئے بلکہ گزشتہ ایک سال سے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ کارگردگی خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ہیڈ کوچ کی حیثیت سے مکی آرتھر کو اپنے بہترین 11 کھلاڑیوں کا معلوم ہونا چاہیئے اور اگر کوئی کھلاڑی غیر تسلی بخش کارکردگی پیش کر رہا ہے تو اس کھلاڑی کی جگہ کسی دوسرے کھلاڑی کو موقع دیا جائے لیکن افسوس کہ ہیڈ کوچ اور ٹیم مینجمنٹ دلیرانہ فیصلے لینے سے قاصر ہیں۔

ہمیں اپنی مخالف ٹیموں سے سیکھنا چاہیئے کہ وہ کس طرح کامیاب حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد میزبان ٹیم نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے 4 فاسٹ باؤلرز کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ پچ رپورٹ کے مطابق تیسرے دن کے بعد وکٹ اسپنرز کو مدد فراہم کرسکتی تھی۔ لیکن افریقہ کی ٹیم مینجمنٹ نے ہمت کی اور یوں ان کا فیصلہ بالکل کامیاب ٹھہرا۔

بالکل اسی طرح گزشتہ ماہ نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ابوظہبی میں کھیلے جانے والے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں اپنے تجربہ کار اسپنرز اشانت سودھی کو ڈراپ کرکے ولیم سمروائل کو ٹیسٹ ڈیبیو کروایا۔ بظاہر یہ فیصلہ مشکل تھا، لیکن اس دلیرانہ فیصلے کی برکت دیکھیے کہ سمروائل نے اہم ترین میچ میں 5 وکٹیں لیں اور یوں امارات کی سرزمین پر نیوزی لینڈ پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔

یہ وہ فیصلے ہیں جو بتارہے ہیں کہ کرکٹ کاغذ پینسل بر نہیں بلکہ میدان میں کھیلی جاتی ہے اور وہی ٹیم کامیابی حاصل کرتی ہے جو میدان کی صورتحال کے لحاظ سے ٹیم کا چناؤ کرتی ہے۔ ویسے بھی پاکستان کے موجودہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو کاغذ پینسل کے استعمال کا بہت زیادہ ہی شوق ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ جب وہ آسٹریلوی ٹیم کی کوچنگ کررہے تھے تو ایک موقع پر 4 کھلاڑیوں کو ٹیم میں صرف اس لیے شامل نہیں کیا کیونکہ انہوں نے ہوم ورک مکمل نہیں کیا تھا۔

گزشتہ سال کے وسط میں پاکستان نے انگلینڈ اور آئرلینڈ کا کامیاب دورہ کیا تھا۔ ان دوروں پر شاداب خان اور فہیم اشرف نے اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت ٹیم کی کامیابیوں میں نمایاں کردار ادا کیا تھا لیکن جب اکتوبر سے نئے سیزن کا آغاز ہوا تو ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا۔ پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن اور سینئر کھلاڑیوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے تناظر میں اگر ان کھلاڑیوں کو ہوم سیریز کے دوران ہی اعتماد دیا جاتا تو اس کا مثبت نتیجہ سامنے آتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں