5

ازخود نوٹس کا استعمال بہت کم کیا جائے گا، نامزد چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے شروع کیے گئے کاموں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کردیا۔

سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد ہوا۔

اس تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام ججز، اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور، پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین کامران مرتضیٰ سمیت سابق ریٹائر ججز اور صحافی شریک ہوئے۔

فل کورٹ ریفرنس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اہلِ خانہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے چیف جسٹس کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے 16 ججز نے شرکت کی جبکہ چیف جسٹس کے ایک حکم سے اختلاف کرتے ہوئے نوٹ تحریر کرنے والے جسٹس منصور علی شاہ ریفرنس کی کارروائی سے غیر حاضر رہے۔

عدلیہ میں کرپشن انصاف کا قتل ہے، چیف جسٹس
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور حساس اداروں کا سویلین معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ عدلیہ نے کہاں دوسرے اداروں کے اختیارات میں مداخلت کی، مقننہ کا کام صرف قانون سازی ہے ترقیاتی فنڈز دینا نہیں اور نہ ہی کسی کا ٹرانسفر یا پوسٹنگ کرنا ہے۔

فل کورٹ ریفرنس سے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے کئی معرکتہ الآراء فیصلے دیے، جس میں سب سے پہلے گلگت اور بلتستان کا فیصلہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے ملک میں پانی کی کمی کا نوٹس لیا، اور جب اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے تو پوری قوم نے عطیات دیے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا مسئلہ عدالت نے آبادی میں اضافے کا اٹھایا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں بطور چیف جسٹس پِسے ہوئے لوگوں کے حقوق کے لیے کام کیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ہر شخص کو عزت سے زندگی گزارنے کا حق دیا، نادرہ کو خواجہ سراوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا، نجی ہسپتالوں کی فیسوں پر نوٹس لیا، طیبہ سمیت گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کا بھی نوٹس لیا۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کا کام انتہائی مشکل ہے، میں نے بھی ججز کے ضابطہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے کام کیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ میں کرپشن انصاف کا قتل ہے۔

میاں ثاقب نثار کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، نامزد چیف جسٹس
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میں میاں ثاقب نثار کے ساتھ گزشتہ 20 سال سے ہوں، آج ہم دونوں علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔

سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس کی تعریف کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بہت مشکل حالات میں عدالت چلائی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور آئینی مشکلات سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی انسانی حقوق کے حوالے سے خدمات یاد رکھی جائیں گی۔

اپنی تعیناتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بطور چیف جسٹس انصاف کی فراہمی میں تعطل کو دور کرنے کی کوشش کروں گا جبکہ ماتحت عدالتوں میں برسوں سے زیر التواء مقدمات کے جلد تصفیہ کی کوشش کی جائے گی۔

نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ غیر ضروری التواء کو روکنے کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا۔

سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار میاں ثاقب کی جانب سے شروع کیے گئے کاموں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ میاں ثاقب نثار کی طرح میں بھی پاکستان میں ڈیم کی فوری تعمیر اور قرض اتارنا چاہتا ہوں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ملک میں جعلی مقدمات کے خلاف بند بناؤں گا اور عرصہ دراز سے زیر التواء مقدمات کا قرض اتاروں گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں کسی سویلین کا ٹرائل ساری دنیا میں غلط سمجھا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں جلد فیصلے ہوتے ہیں تاہم کوشش کی جائے کہ سول عدالتوں میں جلد مقدمات پر فیصلے ہوں۔

ہائیکورٹس کو متنبہ کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتِ عالیہ کو اپنے اختیارات حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے چاہیں۔

ازخود نوٹس سے متعلق نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ از خود نوٹس کا اختیار بہت کم استعمال کیا جائے گا۔

میاں ثاقب نثار کی نیت پر کوئی شعبہ نہیں، نائب چیئرمین پی بی سی
اس موقع پر وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 (3) کا سب سے زیادہ اختیار چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استعمال کیا، میں بھی دیگر قانون دانوں کی طرح اس آرٹیکل سے اختلاف کرنے والوں میں شامل ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی نیت پر کوئی شعبہ نہیں، انہوں نے غیر معمولی کام کیے لیکن آرٹیکل 184 (3) کی حدود و قیود کا معاملہ حل ہونا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ بہت سنگین ہے، جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا کہنا تھا کہ ملک میں کنٹرول میڈیا ایک حقیقت ہے، تاہم اداروں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انتظامی امور میں مداخلت سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے دیکھا جارہا ہے کہ ججز کے لہجے میں ترشی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ جو عدالت اور وکیل کو بنیادی مقصد سے ہٹا دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکیل کو حقائق بیان کرنے اور دلائل دینے کا موقع نہیں دیا جاتا، عدلیہ اور بار ایک گاڑی کے پہیے ہیں لیکن اب ایک پہیہ صرف اضافی دکھائی دیتا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ ازخود نوٹسز کی کثیر تعداد سے عام مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے جبکہ ازخود نوٹس کے فیصلے پر نظر ثانی یا اپیل کا حق دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان کو ہٹانے کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اگر خلفاء کا احتساب سر عام ہوسکتا ہے تو قاضی کا احتساب کیوں نہیں ہوسکتا، دوسرے ممالک میں ججز کا محاسبہ پارلیمنٹ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اور انتظامی امور میں عدلیہ کی بے جا مداخلت سے ادارے کمزور ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ کئی ججز سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے پی) کے فیصلوں کے بعد چلے گئے مگر اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹس کے ایک ایک جج کو الزامات سے مبرا قرار دیا گیا، اس عمل سے سپریم جوڈیشل کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سبکدوشی
واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 31 دسمبر 2016 کو بطور چیف جسٹس اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا جس کی مدت آج پوری ہورہی ہے۔

ان کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ 18 جنوری سے سپریم کورٹ کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لیں گے جو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے حلف لیں گے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اعلان کیا تھا کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ غریب افراد کو مفت میں قانونی مشورے دیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نے اپنے دور میں پاکستان کی تاریخ کے بڑے بڑے فیصلے دیے جن میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) سے متعلق نااہلی اور آسیہ بی بی کیس نمایاں ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بطور چیف جسٹس اپنے دور میں بہت متحرک نظر آئے جو نہ صرف عدالتی ریماکس اور فیصلے سے متعلق عوام میں مقبول ہوئے بلکہ انہوں نے ملک بھر میں مختلف سرکاری اداروں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کا دورہ کرکے وہاں ناقص صورتحال کا نوٹس بھی لیا اور متعلقہ حکام کو طلب کرکے ان کے خلاف کارروائی بھی کی۔

میاں ثاقب نثار نے پاکستان میں پانی کی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے آواز اٹھائی اور ملک بھر سمیت پوری دنیا میں موجود پاکستانیوں سے فنڈ جمع کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا۔

انہوں نے سابقہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے اعزاز میں دیے جانے والے فل کورٹ ریفرنس کے دوران اپنے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ عدالیہ ملک میں کرپشن کو برداشت نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں