6

ساہیوال مقابلے میں ملوث 16 سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

لاہور / ساہیوال: مبینہ پولیس مقابلے میں 4 افراد کی ہلاکت میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا جس کے بعد ورثا نے دھرنا ختم کردیا ہے۔

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے پوری رات دھرنے اور شدید احتجاج کے بعد تھانہ یوسف والا پولیس نے مقابلے میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی آر 16 نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی ہے جنہیں گزشتہ روز ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ مقدمہ نمبر 33/19 میں دہشت گردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ساہیوال، سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ماں، باپ اور بیٹی سمیت 4 جاں بحق، اہلکار گرفتار

جاں بحق افراد کے لواحقین نے گزشتہ شام سے لے کر آج صبح تک شدید احتجاج کرتے ہوئے لاشیں رکھ کر دھرنا دیا اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم ایف آئی آر کے اندارج کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا اور لاشوں کو ایمبولینس میں منتقل کردیا گیا ہے جو لاہور روانہ ہوگئی ہیں۔

گزشتہ شب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے لواحقین سے ملاقات کرکے انہیں تسلیاں تو دی تھیں تاہم مقدمہ درج نہیں کیا گیا جس کے باعث ورثاء مطمئن نہیں ہوئے۔ انہوں نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر چاروں لاشیں رکھ کر احتجاجی دھرنا دے دیا اور ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ورثاء نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی اور شدید احتجاج کیا۔

ادھر لاہور میں بھی مظاہرین نے چونگی امر سدھو کے مقام پر فیروز پور روڈ کو دونوں طرف سے بند کردیا جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند ہوگئی۔

مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے کہا کہ انصاف ملنے تک لاشوں کی تدفین نہیں ہوگی۔ ہماری ایف آئی آر متعلقہ تھانہ میں دینے کی بجائے لاہور میں درج کروانے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ پولیس نے ہماری ایف آئی آر کاٹنے کی بجائے مرنے والوں پر ہی الزام لگادیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں