7

نقیب اللہ پولیس مقابلہ خود ساختہ، جھوٹا اور بے بنیاد تھا، انکوائری رپورٹ

کراچی: انسدادِ دہشتگردی عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نقیب اللہ کے قتل کو ماورائے عدالت قرار دے دیا۔

کراچی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی تو واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے رپورٹ کی روشنی میں نقیب اللہ سمیت 4 نوجوانوں کے قتل کو ماورائے عدالت قرار دے دیا، جبکہ پولیس کی جانب سے چاروں مقتولین کے خلاف درج 5 مقدمات بھی ختم کرنے کی منظوری دے دی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نقیب اللہ، صابر، نذر جان اور اسحاق کو داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد قرار دیکر ویران مقام پر قتل کیا گیا، انکوائری کمیٹی اور تفتیشی افسرنے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، راؤ انوار اور اس کے ساتھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔

نقیب اللہ اور چاروں افراد کو کمرے میں قتل کرنے کے بعد اسلحہ اور گولیاں ڈالی گئیں، حالات و واقعات اور شواہد کی روشنی میں یہ مقابلہ خود ساختہ، جھوٹا اور بے بنیاد تھا، پولٹری فارم میں نہ ہی گولیوں کے نشان ملے اور نہ ہی دستی بم پھٹنے کے آثار ملے۔

نقیب اللہ کیس کا پس منظر
13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کئے گئے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ جعلی پولیس مقابلے میںہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی۔

سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں