4

پاکستان کا 175 ممالک کو ای ویزا کی سہولت دینے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحوں کے لیے جنت ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نئی ویزا پالیسی متعارف کروا رہے ہیں، جس کے تحت 175 ممالک کو ای ویزا جبکہ 50 ممالک کے لیے ویزا آن آرائیول کی سہولت ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں 4 کٹیگریز ہیں اور ویزا پالیسی میں تبدیلی 70 برس بعد نئے دور کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے لیے تمام متعلقہ ایجنسیوں اور محکموں نے مشاورت کرکے وزیر اعظم کی ہدایت پر ویزوں کے لیے بڑا اقدام اٹھایا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) سے منظور شدہ ٹوور آپریٹرز کو اجازت دی ہے کہ وہ سیاحوں کے گروپس کو پاکستان لاسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں بھارتی خطے کے افراد جو برطانوی یا امریکن پاسپورٹ رکھتے ہیں انہیں بھی پاکستان میں ویزا آن آرائیول کی سہولت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ انسداد منی لانڈرنگ کیلئے پاکستان کا ساتھ دے، فواد چوہدری

انہوں نے بتایا کہ بزنس (تجارتی) ویزے کی سہولت کو بھی 68 سے بڑھا کر 96 ممالک کے لیے کردیا گیا ہے، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے لیٹر کے بعد 7 سے 10 روز میں کام کرنے کا ویزا دے دیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ ڈپلومیٹک (سفارتی) ویزا کی مدت کو بھی ایک سال سے بڑھا کر 3 سال، تبلیغ کے ویزا کو 45 دن تک کردیا گیا ہے، اسی طرح ہاؤس ایڈ (باہر سے کام) کے لیے آنے والے افراد کے لیے بھی ویزا کی سہولت بڑھائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک سے طالب علم پاکستان پڑھنے آتے ہیں، جنہیں ایک سال کا اسٹوڈنٹ ویزا دیا جاتا تھا جبکہ ڈگری پروگرام 2 سال اور ماسٹر پروگرام 4 سال تک کا ہوتا ہے، اسی بات کو دیکھتے ہوئے ویزا کی معیاد کو 2 سال تک کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کے لیے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جانے کے لیے نان آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا پڑتا تھا، جسے اب ختم کردیا گیا ہے اور سیاح پاکستان میں کہیں پر بھی جاسکیں گے۔

صحافتی ویزا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزارت اطلاعات کے ذریعے صحافیوں کے ویزوں کا عمل کیا جائے گا اور انہیں طویل مدتی ویزے بھی جاری کیے جائیں گے، اس کے علاوہ 3 شہروں کی پابندی بھی ختم کردی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام اقدامات سے پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ سیاحت نئے پاکستان کی معیشت میں ترقی کی بنیاد بنے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایوان میں نہیں آتے جبکہ دوسری طرف جب وہ ایوان میں آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ بازار میں آگئے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے گالیاں دی جاتی ہیں، ہمیں پارلیمنٹ کا احترام ہے لیکن اپوزیشن کو وزیر اعظم کا بھی احترام کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے معیشت کا یہ حال کیا ہے وہ آکر معیشت پر لیکچر دیتے ہیں، شاہد خاقان عباسی جس دن وزیر بنے تھے گیس کا ایک روپے کا قرض نہیں تھا جبکہ جب انہوں نے وزارت چھوڑی تو 157 ارب روپے کا قرض تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، آج پاکستان میں 12 سال بعد متحدہ عرب امارات کے حکمران پاکستان آئے، محمد بن سلمان پاکستان آرہے ہیں، بحیثیت پاکستان اس پر فخر کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئی حکومت پاکستان میں یہ کردار ادا نہیں کرسکتی تھی، جو تحریک انصاف نے کیا، وزیر اعظم جب پہلے دن ایوان میں آئے تھے تو اسی دن الیکشن کے معاملے پر کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا تھا جبکہ گزشتہ پارلیمنٹ میں اس پر 4 سال لگ گئے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس پر ہماری جماعت میں اختلاف تھا، میں خود نہیں چاہتا تھا کہ شہباز شریف اس کی سربراہی کریں، شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کی تفتیش پروڈکشن آرڈر کے باعث مذاق بن گئی ہے کیونکہ اصولی طور پر انہیں جیل میں ہونا چاہیے۔

اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو چلانا صرف حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے اور اگر اپوزیشن اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرے گی تو ہم سے بھی تعاون کی امید نہیں رکھیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ساہیوال واقعے غلطی سے ہوا لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن منصوبہ بندی سے کیا گیا، سب سے زیادہ ماورائے عدالت قتل شہباز شریف کے دور میں ہوئے ہیں جبکہ یہ ہمیں کہہ رہے کہ ایسا کرنا چاہیے ایسا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بحیثیت حکومتی جماعت اس ایوان کو مچھلی منڈی نہیں بننے دیں گے اور یہ قانون کے مطابق چلے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’بہتر ہوگا پی پی پی اور ن لیگ اپنا لیا ہوا قرضہ خود واپس کردیں‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کی پالیسیز کے نتیجے میں پاکستان کو بہت نقصان ہوا، ہم نے اسے بالکل تبدیل کردیا ہے ، جہاں تک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کا معاملہ ہے تو انہیں ایک فارم دیا گیا ہے، جس پر پورا اترنے والی تنظیموں کو ہی ویزا دیا جائے گا۔

صوبہ سندھ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ والوں کے دل آج کل کمزور ہیں، جیسے ہی کوئی بات ہوتی ہے مراد علی شاہ کو ہسٹیریا کے دورے پڑنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان نہیں بچے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، مراد علی شاہ، سندھ اور زردار کا نظام ڈوب رہا ہے لیکن سندھ کو کوئی خطرہ نہیں، یہاں کے لوگوں کو بااختیار بنانے کا زمانہ آنے والا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں