6

’عمران خان، شہباز شریف کی تقریر برداشت نہیں کرسکتے تو ملک کیسے چلائیں گے؟‘

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وزیرِاعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر برداشت نہیں کرپائیں گے تو ملک کیسے چلائیں گے؟

کراچی پریس کلب میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زردای نے وزیرِ اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِ اعظم پارلیمان کو سنجیدہ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسی کے ذریعے عوامی مسائل حل کرسکتے ہیں تو پھر تحریک انصاف کی حکومت کامیاب ہوجائے گی۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت عوامی مفاد میں قانون سازی کریں گے تو کیا ہم ان کی مخالفت کریں گے؟

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے بجٹ پیش کیا اور اگلے ہی روز اسمبلی سیشن کو ملتوی کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی تقریر برداشت نہیں کرسکتے، اگر وہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر برداشت نہیں کریں گے تو ملک کیسے چلائیں گے؟

چیئرمین پی پی پی نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے الیکشن مہمات میں عوام سے وعدے کیے تھے کہ وہ لوگوں کو گھر اور نوکریاں فراہم کریں گے، لیکن اب حکومت ان سے ان کے روز گار چھین رہی ہے اور ان کی چھتیں گرا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے معاشی منصوبہ بندی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ ایسا کون سے ملک میں ہوتا ہے کہ ایک ہی سال میں تین مرتبہ بجٹ پیش کردیا جائے؟

اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کیلئے لانگ مارچ کی دھمکی
18ویں ترمیم پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر حملے کیے جاتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ہمیشہ ان مذموم حملوں کی مخالفت کی ہے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی پوری جدوجہد 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے تھی، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم پورے ملک کے لیے تاریخی موقع تھا جس کی شکل میں 1973 کے آئین کو بحال کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پورے ملک میں لوگوں کے پاس جاؤں گا اور انہیں یہ بتاؤں گا 1973 کا آئین انہیں کیا کیا حقوق دیتا ہے، تاہم اگر ان کی ان کوششوں کو کمزور کرنے کی سازشیں کی گئیں یا سندھ سے اداروں کو چھیننے کی کوشش کی گئی تو وہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہمیں عوامی ادارے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ملک کے فیصلے اور اس کے عوام کے فیصلے صرف اور صرف منتخب نمائندے ہی لیں گے اور یہ ’کسی اور‘ کا کام نہیں ہے۔

چیئرمین پی پی پی وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ بلدیات سعید غنی اور مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچے تھے۔

میڈیا ملازمین کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی
پریس کلب عہدیداران نے بلاول بھٹو زرداری کو صحافیوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا جس پر چیئرمین پی پی پی نے ان مسائل کو متعلقہ اداروں کے سامنے اجاگر کرنے کی یقین دہانی کروادی۔

بلاول بھٹو زرداری نے آزادی اظہارِ رائے پر لگنے والی قدغن کی مذمت کرتے ہوئے میڈیا ملازمین کو ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کروادی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میڈیا ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے، وہ قدم بڑھائیں گے تو ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میڈیا اور اظہارِ آزادی پر حملے ہو رہے ہیں، تاہم ہمیں اس کی بقا کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے پریس کلب کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں پریس کلب نہ ہوتے تو شاید جمہوریت بھی نہ ہوتی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’صحافیوں کی جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں ہیں، ہم ان قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے‘۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 29 جنوری کو بھی بلاول بھٹو زرداری نے خیرپور میں گمبٹ میڈیکل کالج کے افتتاح کے موقع پر 18ویں ترمیم کی بقا کے لیے لانگ مارچ کرنے کی دھمکی دی تھی.

انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ قوتیں 18ویں ترمیم کو نقصان پہنچا کر سندھ حکومت سے ادارے چھیننا چاہتی ہیں، ہم 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں