4

‘تحریک انصاف کے بیشتر رہنما شیخ رشید کو پی اے سی میں نہیں دیکھنا چاہتے’

اسلام آباد: حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفاقی وزرا سمیت کئی سینئر رہنماؤں نے مختلف وجوہات کی بنا پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا رکن بنانے کی تجویز کی مخالفت کردی ہے۔

کئی سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں کے انٹرویوز سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ زیادہ تر پارٹی رہنما اور کارکنان شیخ رشید کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر پر تنقید سے ناراض ہیں۔

ایک سینئر پارٹی رہنما اور وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسد قیصر پارٹی کے پرانے رکن ہیں اور وہ کسی غیر سے اپنے بارے میں ایسی بات برداشت نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شیخ رشید کو اسپیکر پر حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا، اسد قیصر نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے بھی اسپیکر کی حیثیت سے کام کیا ہے اور انہیں معلوم ہے کہ پارلیمنٹ کو کیسے چلانا ہے‘۔

وفاقی وزیر، جن کے پاس تحریک انصاف میں ایک اہم عہدہ بھی تھا، کا کہنا تھا کہ جہاں تک وہ جانتے ہیں شیخ رشید کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ پارٹی کے کسی بھی فورم پر زیر بحث نہیں آیا۔

شیخ رشید کے دعوے کہ اپوزیشن لیڈر کا امتحان لینے کے لیے عمران خان نے ان سے پی اے سی کا رکن بننے کا سوال کیا تھا، پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ شیخ رشید معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

وزیر ریلوے جو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ بھی ہیں، گزشتہ چند روز سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بننے کے لیے بے تاب ہیں، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم اور دیگر ’با اختیار افراد‘ کی جانب سے انہیں کمیٹی کا رکن بننے کے لیے اجازت مل گئی ہے۔

اسلام آباد میں ریلوے کیریئج فیکٹری ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے قومی اسمبلی کے اسپیکر پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اسد قیصر کو انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا رکن نہ بنانے کی وجوہات بتانی چاہیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین تعینات کرکے ’غیر قانونی‘ کام کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرتبہ اگر انہیں پی اے سی میں شمولیت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ملی تو وہ یہ معاملہ عدالت میں لے کر جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں