6

‘پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے’

‘پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے’

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورے کا اصل مقصد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے سعودی اخبار میں شائع رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے مطابق دورے کے دوران محمد بن سلمان پاکستان میں آئل ریفائنری کے قیام میں سرمایہ کاری کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کریں گے، جو پاکستان کی تاریخ میں سعودی عرب کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک فلسطین اور کشمیر کے تنازعات پر بین الاقوامی برادری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اسلامی برادر ممالک افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک اسلامی تعاون کی تنظیم کے پلیٹ فارم کے ذریعے مسلم اُمہ کو مضبوط کرسکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہر طرح سے ہمارے دلوں کے قریب ہے اور پاکستان کسی کو بھی سعودی عرب پر حملے کی اجازت نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سیکیورٹی اور استحکام کے معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج پاکستان کے دورے پر اسلام آباد آرہے ہیں جس کی وجہ سے اسلام آباد اور گرد و نواح کے علاقوں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے والے ولی عہد کے راولپنڈی کے نور خان ایئر باس آمد پر ان کے شاندار استقبال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ انہیں وزیر اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پر انہیں 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی۔

سعودی ولی عہد کے ہمراہ شاہی خاندان کے افراد کے علاوہ وزیروں اور نامور تاجروں کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آرہا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد کا نور خان ایئربیس پر استقبال وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے اراکین کریں گے۔

واضح رہے کہ ولی عہد کو گزشتہ روز پاکستان آنا تھا تاہم ان کی آمد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایک دن کی تاخیر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان کی پاکستان میں افغان طالبان کے وفد سے ملاقات متوقع

اسلام آباد کی جانب سے اس دورے کو تاریخی قرار دیا گیا ہے، 21 ارب ڈالر سے زائد کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی اُمید کی وجہ سے اسے اپم قرار دیا جارہا ہے جو ملک کی معیشت کے استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔

سعودی ولی عہد کے لیے ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں علیحدہ علیحدہ 2 استقبالی تقاریب کا انتظام کیا گیا ہے جس کے بعد محمد بن سلمان کی صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

سعودی ولی عہد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی علیحدہ ملاقات کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے توانائی کے شعبے میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے کے بعد پیر کو پاکستان سے چلے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں