6

ٹی ایل پی رہنماؤں کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست سماعت کیلئے منظور

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنماؤں کی نظر بندی ختم کرنے سے متعلق دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے 2 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت عالیہ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے تحریک لبیک پاکستان کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے 2 دن میں رپورٹ طلب کر لی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ فیصل آباد سمیت دیگر اضلاع سے تحریک لبیک کے قائدین کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پی او فیصل آباد نے تحریک لبیک کے قائدین کو ملاقات کے لیے بلایا اور گرفتار کر لیا جبکہ 23 نومبر 2018 کو حراست میں لے کر ایک ماہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ رہائی کے ایک گھنٹے کے بعد ہی انہیں پھر حراست میں لے لیا گیا۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ ٹی ایل پی کے تمام قائدین کی نظر بندی ختم کر کے رہائی کا حکم دے۔

عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے 2 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔

18 فروری 2019 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی اور دیگر رہنماؤں کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک پاکستان نے پرتشدد مظاہروں کیے تھے اور اس دوران املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔

خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران 23 نومبر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا۔

اس کریک ڈاؤن کا آغاز آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف تحریک لبیک کی جانب سے مظاہرے دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں