6

سابق جج شوکت صدیقی کی درخواست پر اعتراضات ختم، سماعت کیلئے منظور

سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید شیخ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر دائر اپیل پر ان چیمبر سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے ان چیمبر درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

اسلام آباد کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت عظمیٰ کے رجسڑار نے شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر اعتراضات عائد کئے تھے۔

بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے رجسڑار کے اعتراضات کے خلاف ان چیمبر اپیل دائر کی تھی، جسے سپریم کورٹ نے منظور کرلیا۔

خیال رہے کہ 11 اکتوبر 2018 کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو متنازع تقریر کے معاملے پر انہیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اداروں کے خلاف متنازع تقریر کے معاملے پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔

متنازع تقریر کا معاملہ
یاد رہے کہ 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا تھا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا‘۔

اپنے خطاب کے دوران بغیر کسی کا نام لیے انہوں نے الزام لگایا کہ ’مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: فوج کی اعلیٰ قیادت خفیہ اداروں کو لگام دے، جسٹس شوکت صدیقی

اس کے بعد 22 جولائی کو چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔

چیف جسٹس نے واضح کیا تھا کہ ’پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں‘، تاہم انہوں نے معاملے کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

22 جولائی کو ہی پاک فوج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ریاستی ادارے پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

جس کے بعد یکم اگست 2018 کو سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں 2 ریفرنسز زیر التوا ہیں، جن میں ایک ریفرنس بدعنوانی سے متعلق ہے، جو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک ملازم کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف پہلا ریفرنس سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر انور علی گوپانگ نے دائر کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے 80 لاکھ روپے خرچ کیے حالانکہ وہ یہاں یہ رقم خرچ کرنے کے حق دار نہ تھے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف دوسرا ریفرنس گزشتہ برس ہونے والے فیض آباد دھرنے میں پاک فوج کے کردار کے بارے میں ان کے ریمارکس سے متعلق ہے، جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے سوالات اٹھائے تھے، یہ ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم خالق نے دائر کیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دونوں ریفرنسز کو کھلی عدالت میں سننے کی درخواست دی تھی جس پر کارروائی ابھی جاری تھی۔

رواں سال 21 جولائی کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب کیا تھا، اس خطاب میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی عدلیہ کے امور میں مداخلت کررہی ہے، خفیہ ادارے والے عدالت کے بینچ بنانے کے معاملے میں مداخلت کررہے ہیں۔

یہ بات جسٹس صدیقی نے اس وقت کہی جب شریف خاندان کی پاناما اپیلوں پر ہائیکورٹ میں سماعت ہورہی تھی اور بینچ بھی تبدیل ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں