154

حسن صدیقی کی فائٹ کا آنکھوں دیکھا حال

حسن صدیقی کی فائٹ کا آنکھوں دیکھا حال
حسن صدیقی اور ابھے نندن کی فائٹ دیکھنے والے اس خوشی کو بیان کرنے سے بھی قاصر
ہیرو پائلٹ کے فائیر سے بھارتی طیار ہ ہٹ ،زور دار دھماکہ،فضا نعروں سے گونج اٹھی
یہ 1993کی بات ہے جب راقم کوپہلی مرتبہ نکیال سکیٹر کے سرحدوں پر ایل او سی پر جانے کا اتفاق ہوا اور اس دن سے کشمیروں کے رہن سہن حوصلے اور مہمان نوازی کا معترف تھا لیکن اتنے سالوں بعد گزشتہ دو روز و شب کشمیر کے اس علاقے میں گزارے جہاں کے باسیوں نے نہ صرف پاکستانی ہیرو حسن صدیقی اور بھارتی پائلٹ ابھے نندن کی لڑائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ جب پاکستانی فوجی جوان بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو لے کر بھمبر سے گزرے تو بھمبر شہر کے باسیوں نے ان فوجی جوانوں کے جیپوں پر اتنے پھول برسائے کہ بھمبر شہر اور اردگرد کے تمام پھول فروشوں کے پاس سے پھول ختم ہو گئے شہیدوں غازیوں اور پاکستان کی محبت سے سرشار اس سرزمین کی گلیاں بازار پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھیں
پچیس سال پہلے جب ہم نکیال سیکٹر کے ایل او سی والے علاقے میں گئے تھے تو اس وقت کشمیر کی تحریک ابھی شروع تھی اور جوبن پر تھی اور اسی دن ایک ہی گھر کے تین افراد جن میں ایک جوان سال سکول کی بچی بھی شامل تھی وہ اسی روز شہید ہوئی تھی اور ہمیں یاد ہے کہ ہم ان دنوں میں جب گاڑی پارک کر رہے تھے تو ہمیں ہر شہر کے باسیوں نے کہا کہ باو جی گاڑی جہاں مرضی پارک کر دیں یہاں پر آپ کی گاڑی چوری نہیں ہو سکتی اور پھر ہم نے دیکھا کہ ہم نے ٹائیر پنکچر کروانے کے لئے دیئے تو بھی کسی نے ہم سے پیسے نہیں دیئے کہ آپ ہمارے مہمان ہیں بلکہ الٹا ہمیں چائے پلائی کر اپنی دوکان سے روانہ کیا اس دن سے میں میں خود بھی ایک کشمیر ی ہوں لیکن میں آزاد کشمیر کے رہائشیوں کا فین ہو گیا تھا
اب اتنے سالوں بعد جب راقم بھمبر ایل او سی رچھ پہاڑی بابا شادی شہید اور اسکے کے مضافات میں گیا تو دن کے ساتھ ساتھ ساری رات کی گولہ اور میزائل باری سے کسی ایک شہری کو بھی ہم نے پریشان نہیں دیکھا بلکہ سب اللہ پر پختہ یقین اور وطن سے محبت میں سرشار پایا ساری رات بلیک آوٹ کی وجہ سے گھپ اندھیرا تھا لیکن مجال ہے کہ کسی ایک شہری کے ماتھے پر بھی شکن آیا ہومجال ہے کہ مہان نوازی کرنے والوں نے ہمیں ایک منٹ اکیلے چھوڑا ہو بلکہ جب تک ہم سوئے نہیں کسی ایک میزبان اور انکے بچوں نے بستر کا رخ نہیں کیا بلکہ ہمارے اٹھنے سے پہلے میزبان تیار تھے ہمارا ناشتہ لے کر ۔لگا انہوں نے ہمیں خرید لیا ہے
پھر جب میزبانوں شہر کے باسیوں نے جب پاکستانی ہیرو حسن صدیقی اور ابھے نندن کی لڑائی کا آنکھوں دیکھا حال بتایا تو ایمان تازہ ہو گیا کہ رات کے اندھیرے میں پے آف گرانے والے مکار دشمن کو جب پاکستانی ہیروز گھس کر مار کر واپس آ رہے تھے تو پاکستانی اور بھارتی طیارے کی لڑائی کو سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چشم دید گواہوں نے بتایا کہ جب بھارتی طیارے کو ہٹ کیا گیا تو اتنی بڑی آواز آئی جیسے کوئی بہت بڑا دھماکا ہوا ہے اور آگ کے شعلے ہوا میں بلند تھے کہ بھارتی طیارہ دو ٹکڑے ہوتا نظر آیا جس کے ساتھ ہی فضا نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونجنا شروع ہو گئی شہریوں کی خوشی دیدنی تھی اور شعلوں میں لپٹے طیارے سے پیرا شوٹ
کے ذریعہ سے جب ابھے نندن وغیرہ نیچے آ رہے تھے تو ارد گرد کے تمام لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابھے نندن کو گھر لیا اور جیسے ہی وہ نیچے اترا تو اس
نے سب سے پہلے پوچھا یہ کونسا علاقہ ہے پاکستان یا بھارت کا تو ایک شہری نے مذاق میں کہا بھارت تو ابھے نندن نے جئے ہند کا نعرہ لگایا جس پر شہریوں نے ابھے نندن کی خوب دھنائی کی اور اسکے علاوہ ایسی باتیں ہیں جو ملکی مفاد میں لکھی نہیں جا سکتیںلیکن گولہ باری اور شہادتوں کے باوجود ایل ای سی کے ارد گرد رہنے والے کشمیریوں کے عزم او ر ہمت کی بہت داد دینی چاہیں بلا شبہ وہ سچے اور وطن کی مٹی سے محبت کرنے کی کی ایک زندہ مثال ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں