49

مودی بمقابلہ کپتان ۔۔۔جنگ سے بچنا ہی نوبل اعزاز

مودی بمقابلہ کپتان ۔۔۔جنگ سے بچنا ہی نوبل اعزاز
پاکستان دانشمندی نا دکھاتا تو ڈیڑھ ارب لوگ ایٹمی جنگ میں جھلس جاتے
تاریخ سے عاری نئی نسل نے خوش قسمتی سے جنگ سنی ہے کبھی دیکھی نہیں

26 فروری کو بھارت کی دراندازی اور 27فروری کی پاکستانی فتح کے بعد جس انداز میں پاکستان نے جنگ کے طبل کو بجنے سے بچایا اسے جب تاریخ دان لکھیں گے تو عقلمندی کا بہت کارنامہ لکھیں گے اور جس جس نے اس جنگ سے بچنے کے لئے اپنا کردارادا کیا اس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ جنگ کا کہنا بہت آسان جبکہ جنگ سے بھگتنا اور نتیجہ خیز بنانا بہت مشکل ہوتا ہے اگر پاکستان عقلمندی نا کرتا اور بھارت اپنے میزائل چلا دیتا جواب میں پاکستان تیس میزائل چلاتا تو پھر ایک بڑی یا ایٹمی جنگ کا بھی خطرہ موجود تھا جس کے اثرات دہائیوں نہیں بلکہ صدیوں رہتے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے لوگوں نے بدقسمتی سے اصلی اور مکمل جنگ نہیں دیکھی ہندوستان کی تمام جنگیں محدود تھیں ہم پنجابی سینٹرل ایشیا کے ہر حملہ آور کا اٹک کے پل پر استقبال کرتے تھے اسے ہار پہناتے سپاہیوں کو خوراک اور گھوڑوں کو چارا دیتے تھے اور سیدھا پانی پت چھوڑ کر آتے تھے یہ ہماری تاریخ تھی تاریخ نے ایک بار پلٹا کھایا اور انگریز پانی پت سے لاہور آ گیا ہم نے اسے بھی ہار پہنائے اور سیدھا جلال آباد جھوڑ کر آئے انگریز باقی زندگی افغانوں سے لڑتے رہے اور ہم ان کے سہولت کار بنے رہے ہم 1857 کی جنگ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ کہتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے یہ جنگ دہلی سے 75 کلو میٹر کے فاصلے پر میرٹھ میں شر وع ہوئی اور دہلی پہنچ کر ختم ہو گئی۔یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئی تھی اور پنجاب سندھ ممبئی کولکتہ اور ڈھاکا کے لوگوں کو جنگ کی خبر اس وقت ہوئی جب ملبہ تک سمیٹا جا چکا تھا اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں لکھ رہا تھا ہم اگر 1965 اور 1971 کی جنگوں کا تجزیہ بھی کریں تو یہ جنگیں ہمیں جنگیں کم اور جھڑپیں زیادہ محسوس ہوں گی 1965 کی جنگ چھ ستمبر کو شروع ہوئی اور 23 ستمبر کو ختم ہو گئی پاکستان اور بھارت 17 دن کی اس جنگ کو جنگ کہتے ہیں یہ دونوں ملک ہر سال اس جنگ کی سالگرہ مناتے ہیں 65 کی جنگ میں چار ہزار پاکستانی شہید اور تین ہزار بھارتی ہلاک ہوئے تھے یہ جنگ بھی صرف کشمیر پنجاب اور راجستھان کے بارڈر تک محدود رہی تھی ہندوستان اور پاکستان کے دور دراز علاقوں کے عوام کو صرف ریڈیو پر جنگ کی اطلاع ملی جب کہ 1971 کی جنگ تین دسمبر کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر کو ختم ہو گئی۔اس جنگ میں میں 9 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور 26 ہزار بھارتی اور بنگالی ہلاک ہوئے آپ کسی دن ٹھنڈے دل کے ساتھ 13 اور 17 دنوں کی ان جنگوں کو یورپ کی چار اور چھ سال لمبی جنگوں اور ان تین ہزار چار ہزار 9 ہزار اور 26 ہزار لاشوں کو یورپ کی ساڑھے چار کروڑ اور چھ کروڑ لاشوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں آپ لاہور اور ڈھاکا پر حملے کو دیکھیں آپ 1965 کے پٹھان کوٹ اور چونڈا کے حملوں کو دیکھیں اور پھر ہیرو شیما ناگا ساکی پرل ہاربر نارمنڈی ایمسٹرڈیم برسلز پیرس لندن وارسا برلن اور ماسکو پر حملے دیکھیں اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ آپ کے جسم کا ایک ایک خلیہ آپ کو جنگ کی ماہیت بتائے گا ہم دونوں ملک جنگ سے ناواقف ہیں ہم جانتے ہی نہیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ چنانچہ ہم ہر سال چھ ماہ بعد ایٹم بم نکال کر دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں بھارت ممبئی کے حملوں پارلیمنٹ پر دہشت گردی پٹھان کوٹ اور اڑی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد جنگ کی دھمکی دیتا ہے اور پاکستان معمولی واقعات پر ہم نے یہ ایٹم بم شب برات پر چلانے کے لیے نہیں بنائے کا اعلان کر دیتا ہے کیوں؟ کیونکہ یہ دونوں نہیں جانتے جنگ کیا ہوتی ہے ایٹم بم کیا ہے اور یہ جب پھٹتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟۔میں بعض اوقات سوچتا ہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہو جانی چاہیے یہ دونوں ملک جی بھر کر اپنے جنگی ارمان پورے کر لیں یہ اپنے سارے ایٹم بم چلا لیں تا کہ یہ ایک بار برصغیر کے 110 شہروں کو موہن جو داڑو بنا دیکھ لیں یہ خیر پور سے گوا تک پانچ دس کروڑ لاشیں بھی دیکھ لیں یہ عوام کو دوا اور خوراک کے بغیر بلکتا بھی دیکھ لیں یہ زندگی کو ایک بار بجلی ٹیلی فون پانی سڑک اسپتال اور اسکول کے بغیر بھی دیکھ لیں اور یہ پچاس سال تک معذور بچے پیدا ہوتے بھی دیکھیں یہ تب جنگ کو سمجھیں گییہ اس کے بعد جاپان اور یورپ کے لوگوں کی طرح جنگ کا نام نہیں لیں گے یہ اس وقت یورپ کی طرح اپنی سرحدیں کھولیں گے اور بھائی بھائی بن کر زندگی گزاریں گے اور یہ اس وقت اڑی اور کوئٹہ کو امن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیں گے راوی اس وقت چین ہی چین لکھے گا اس سے پہلے ان بے چین لوگوں کو چین نہیں آئے گا یہ ہیرو شیما اور وارسا بننے تک جنگ جنگ کرتے رہیں گے.اس لئے اس جنگ سے پچنے کے لئے جس جس نے کردار ادا کیا ہے انہیں نوبل انعام نہیں تو اسے نوبل اعزاز ضرور ملنا چاہئے جنگ سے بچانے پر اور کروڑوں زندگیا ں بچانے پر امن پسند انعام جبکہ جنگ کا طبل بجانے والے کو سزا ملنی چاہئے امید ہے کہ بھارتی عوام موودی کو اس کی سزا اور عمران کو اگلے الیکشن میں اس کا جزا ملے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں