109

ایک انڈے نے تہذیبوں کی جنگ روک دی۔۔۔لیکن

ایک انڈے نے تہذیبوں کی جنگ روک دی۔۔۔لیکن
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا امریکی صدر کو کرارہ جواب بھی مسلمانوں کی ہمدردی کا باعث بنا
دشمن کی سازش تھی کہ مسلم نوجوان بدلہ لیں اور پھر مسلمانوں اور سفید فاموں کے درمیان گلی گلی لڑائی ہو
ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں مسلمانوں کو اور خاص طور پر داڑھی کو دہشت گردی کی پہچان بنایا جا رہا تھا اور اس کے باوجود پوری دنیا میں پھیلے پر امن مسلمانوں کے ان معاشروں میں حسن سلوک اور اعلی کردار کیو جہ سے مغرب میں اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا اور مغرب اور خاص طور پر انتہا پسند مغرب میں مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد سے پریشانی پھیل رہی تھی اور اسی پریشانی کی وجہ سے نیوزی لینڈجیسے پرامن ملک اور پھر ایک ایسے شہر جس کا نام ہی یسوع مسیح کے چرچ یعنی کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کر کے دو عظیم تہذیبوں کے درمیان دنیا بھر میں گلی گلی خانہ جنگی شروع کرنا تھا لیکن سب سے پہلے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے بروقت اور سمجھدارانہ اقدامات کی وجہ سے اور پھر ان کے امریکی صدر کو دیئے گئے جواب کہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کریںنے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل بھی جیتے اور انکے زخموں پر مرہم بھی رکھی لیکن سب سے بڑا کردار ایک انڈے کا تھا جو ایک آسٹریلوی سنیٹر کے سر پر مارا گیا تھا۔
ایک انڈے نے جہاں آسٹریلوی سنیٹر کو ہٹانے کی دستخطی مہم کا آغاز ہوا وہاں نہ صرف اس سنیٹر نے اپنے خط سے انکار کیا بلکہ امریکی صدر نے بھی اپنی ٹویٹ واپس لی جبکہ خاموش فیس بک ، ٹویٹر اور یو ٹیوب سمیت ساری سوشل میڈیا مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کرتے دکھائی دی اور اسلام مخالف پوسٹوں کو بھی ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور پھر برطانیہ میں اس انڈے سے قبل جو سلسلہ شروع ہوا تھا مسلمانوں پر حملوں کا وہ بھی رک گیا بلکہ پوری دنیا میں دشمن کی سازش ناکام ہو گئی
لیکن ایک ناکام عاشق ترکش نژاد خوکمان تانس کی جانب سے ہالینڈ کے شہر اتریخت میں جو اس سے پہلے بھی خواتین کے ساتھ ریپ اور مار پیٹ کے علاوہ بلڈنگ میں فائیرنگ کے واقعات میں ملوث رہا نے اپنی دوست کی بے وفائی کی وجہ سے اسے اور اس کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے کو مارنے کی کوشش کی۔ ملزم کے پکڑے جانے سے قبل پورے ہالینڈ اور مغرب میں مسجدوں اور گرجا گھروں کی سکولوں کی حفاظت سخت کر دی گئی اور ٹرام اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی تمام بڑی شاہراہوں پر انتہائی سخت ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا سڑکوں پر چیکنگ کے باعث لمبی لمبی لائینیں لگ گئی اورپورے یورپ میں مسلمانوں کو پھر ترچھی نظروں کا سامنا کرنا پڑا جیسے انہیں نیوزی لینڈ واقعہ سے قبل دیکھا جا تا ھتا بدبخت ناکام عاشق کی جانب سے ہالینڈ کے شہر اتریخت میں فائرنگ کے واقعہ نے مسلمانوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہمدردی اور اسلام کے بارے میں پایا جانے والا نرم گوشے کو بہت نقصان پہنچایا چونکہ دشمن کی سازش بھی یہی تھی کہ مسلمانوں کے مساجد پر حملے کئے جایں تاکہ وہ بھی بدلے میں ایسے ہی جواب دیں اور پھر پوری دنیا میں وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی خانہ جنگی کا آغاز ہو جو کہ دنیا کے خاتمہ کا باعث بنے لیکن تعلیم و شعور نے دشمن کی یہ سازش ناکام بنا دی کیونکہ مغرب کے حکمرانوں کی سوچ اور ہے اور وہاں پر پلنے والی نئی نسل کی سوچ اور اورحق سچ کی بات کو پروان چڑھایا جو کہ انکی پرورش اور تعلیمی ماحول کی وجہ سے ہوا یہی وجہ ہے کہ نئی نسل نے آسٹریلوی بدبخت کی اس سوچ کو ٹھکرایا اور دنیا میں امن برقرار رہا لیکن ابھی بھی اس سفید فام ماینڈ سیٹ کے انسان موجود ہیں اور پھر ایسے بدبخت بھی
موجود ہیں جو اسلام کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر دونوں تہذیبوں کے درمیان ہر سطح کا ایک مکالمہ شروع کیا جائے کیونکہ دنیا اس وقت امن کے ساتھ رہنا چاہتی ہے لڑائی جھگڑے کے ساتھ نہیں جس طرح پاک بھارت جنگ میں دنیا نے ایک میچورٹی دکھائی ہے اسی طرح نیوزی لینڈ کے اس واقع اور پھر ہالینڈ میں ترکش نژاد بدبخت کی جانب سے جو اقدام کیا گیا اس پر بہت کچھ سوچنے اور سر جوڑنے کی ضرورت ہے چونکہ کسی ایک کے شخص کے انفرادی یا کسی گروہ کے اقدام کو کبھی بھی کسی تہذیب کا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا ابھی بھی اس شراندازی کوفوری طرح کچل دیا جائے اور ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا ابھی بھی امن کا گہوارہ بن سکتی ہے
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں