198

قومی اسمبلی اجلاس، کپتان کی جیت

قومی اسمبلی اجلاس، کپتان کی جیت
عمران خان کی حکمت عملی کامیاب رہی کہ وہ نہیں بولیں گے تو کوئی نہیں بولے گا
کپتان نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی کامیاب سیاستدانون کی صف میں شامل ہو چکے ہیں
منگل کے روز وہ لوگ جو عمران خان کو سیاستدان نہیں سمجھتے تھے ان کے لیے حیران کن دن تھا کہ عمران خان کی حکمت عملی کامیاب ہوئی کہ جب وہ نہیں بول سکیں گے تو ان کے بقول کوئی چور ڈاکو بھی نہیں بات کر سکے گایعنی شہاز شریف ، بلاول سمیت کوئی بھی اپوزیشن لیڈ ر نہیں بول سکے گا اور پھر ایسے ہی ہوا کہ منگل کے روز جب شہباز شریف نے اپنی بجٹ تقریر شروع کی تو حکومتی ارکان نے ایک مرتبہ پھر نعرے بازی شروع کی جس پر اجلاس ملتوی ہوا اور پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے تو پھر اس بات پر سب راضی ہو گئے کہ نہ کوئی عمران خان کی تقریر کے دوران شور کرے گا اور نہ ہی اپوزیشن کے لیڈرز کے بولنے وقت کوئی حکومتی رکن شور کرے گا ۔مذاکرات کی کامیابی کے بعد راجہ پرویز اشرف، فواد چودہدری، سید خورشید شاہ، علی محمد خان سمیت چھ ارکان نے ایوان کی کاروائی بہتر انداز میں چلانے کے لیے 34منٹ کی تقاریر کیں جس میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے لیڈرز کی تقاریر کے دوران احترام اور شور نہ کرنے کے حوالے سے یقین دہانیاں کروائیں گیں
اس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی سپیکر قاسم سور ی کی زیر صدارت منگل کے روز قومی اسمبلی کے گیارویں اجلاس کا پانچواں روز ایک گھنٹہ 11منٹ دیر سے شروع ہوا جبکہ تلاوت ، نعت خوانی ، چھٹیوں کی درخواستوں اور ایک آرڈیننس پیش کیے جانے سمیت چھ ارکان کی 34منٹ کی تقاریرسمیت دو گھنٹے 57منٹ کے اجلاس میں سے ایک گھنٹہ 59منٹ اجلاس حکومتی اور اپوزیشن کے احتجاج کے باعث معطل رہا۔342کے ایوان میں 144ارکان قومی اسمبلی گزشتہ روز اجلاس کو رونق بخشنے آئے جبکہ دس اقلیتی ارکان میں سے سات اجلاس میں موجود تھے ۔خطہ پوٹھوہار سے غلام سرور خان ، راجہ پرویز اشرف، فواد چوہدری، جڑواں شہروں سے ارکان قومی اسمبلی خرم نواز، علی اعوان ، شیخ رشید ، شیخ راشد شفیق اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیر اعظم تو شریک نہ ہوئے لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف 51منٹ اجلاس میں شریک ہوئے جس میں سے چار منٹ کی تقریر بھی شامل تھی۔دونوں جانب کا احتجاج سات منٹ جاری رہا جس کے بعد اجلاس کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دیا گیا ۔ وقفہ کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وہ مذاکرات ہوئے جس کے لئے عمران خان کے کہنے پر تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے احتجاج کیا جس پر سب حیران تھے کہ حکومت خود احتجاج کر رہی ہے اب سب کو پتہ چل گیا ہو گیا کہ حکومت کیوں احتجاج کر رہی تھی اگر قومی اسمبلی میں قائد عوام نہیں بول سکتے تو عمران خان نے فیصلہ کیا تھا کہ پھر ہاوس میں اپوزیشن کا بھی کوئی لیڈر نہیں بول سکے گا اور پھر ایسے ہی ہوا گزشتہ تین دنوں سے جمعہ ، پیر اور منگل جب بھی شہباز شریف کو فلو ر ملا حکومت نے چور چور ، ڈاکو ڈاکو ،قاتل قاتل ماڈل ٹاون کے قاتل سمیت کئی قسم کے نعروں سے ایوان مین اتنا شور شرابہ کیا کہ روز اجلاس مختصر وقت کے لئے ہوتا رہا جس کے بعد اپوزیشن کا بھی معلوم ہو گیا کہ وہ کسی کو نہیں بولنے دینگے تو خود بھی نہیں بول سکیں گے جس کے بعد معاملات وقتی طور پر سلجھ گئے
محسوس ہو رہا ہے کہ پیپلز پارٹی آصف زرداری اور نون لیگ خواجہ سعد کو اجلاس میں نہ بلائے جانے پر اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ اگر انہیں بلایا گیا تو علی وزیر اور محسن داوڑ کو بھی بلایا جائے گا اور اس بات کی سب کو سمجھ آگئی ہو گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں