72

لڑکی کی لڑکی سے شادی؛ کیا اس ملک کو امریکا بنانا چاہتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ

راولپنڈی: 

عدالت نے لڑکی کی لڑکی سے شادی کیس میں دلہا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں لڑکی کی لڑکی سے شادی اسکینڈل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے آج بھی مبینہ دلہا علی آکاش عرف عاصمہ بی بی کی عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

عدالت نے ایس ایچ او تھانہ ٹیکسلا اور ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن لاہورکو دلہا کو 7 اگست کو گرفتار کرکے ہر صورت عدالت پیش کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: لڑکی کی لڑکی سے شادی؛ دلہا کے وارنٹ گرفتاری جاری، طلاق نامہ بھی مسترد

فاضل جج نے سی سی پی او لاہور کو احکامات پر عملدرآمد کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کرکے پیش نہ کیا گیا تو پولیس افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

علی آکاش کے وکیل نے کہا کہ وہ بیماری کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا۔ وکیل نے عدالت میں نئی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ علی نے اپنی مبینہ دلہن نیہا علی کو طلاق دے دی ہے، کیس کو ختم کیا جائے۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ علی آکاش پنڈی میں موجود ہونے کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوا۔

عدالت نے علی آکاش کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس ملک کو امریکا کی طرز پر بنانا چاہتے ہیں کہ لڑکیاں لڑکیاں اور لڑکے لڑکے آپس میں شادیاں کریں، کیا والدین خاموش رہیں، اس ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے، کیا آپ اس ملک کے معاشرے کو تباہ کرنے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں