154

گزشتہ چار سالوں میں سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب پر اربوں روپے لگائے گئے،حساب موجود نہیں،آڈیٹرجنرل
سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر سیف خٹک کو گریڈ18میں اسی لیب میں تعینات کیا،ذرائع
سی ا ی و ڈریپ نے بورڈ کی منظوری کے بغیر سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب پر پر244ملین روپے خرچ کیے،آڈٹ رپورٹ میں ا نکشاف

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ) جہاں ایک طرف وزیر اعظم عمران شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتے ہیں وہیں انہی کی وزارت میں اربوں روپے کے بڑے کرپشن سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے،گویا یہ کرپشن کا بڑا سکینڈل ن لیگی دور میں ہوا تاہم موجودہ حکومت نے بھی اس کرپشن کو جاری رکھا اور اس بڑے کرپشن سکینڈل میں ملوث عناصر کو کیفرکرداد تک نہیں پہنچایا ہے۔تفصیلات کے مطابق آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چارسالوں میں سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب پراربوں روپے خرچ کیے جاچکے ہیں تاہم ان میں میں 244ملین روپے ایسے ہیں جن کی منظوری بورڈ سے سر ے سے لی ہی نہیں گی اور سی ای او ڈریپ نے منظوری کے بغیر ہی اس فنڈ کو استعمال کیا ہے وہیں انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر سیف خٹک کو گریڈ18میں اسی لیب میں تعینات کیا تھا،سیف خٹک نے اس لیب کی بلڈنگ میں سول اور الیکٹریکل ورکس کا ٹھیکہ کیا جس کی لاگت۔.40ملین تھی وہیں پرچیز اور انسٹالیشن کے لیے 40.66ملین تھی،کل لاگت 80.85ملین تھی،آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس ٹھیکہ میں بڑی بے ضابطگی سامنے آئی،ڈیپارٹمنٹ نے پی ڈبلیو ڈی کی منظوری اور شامل کیے بغیر بغیر خود سے ہے سارا کام کیا،کام کی تکنیکی منظوری کہیں سے نہ لی گئی،سول اور الیکٹریکل کے کام کی نگرانی کا کوئی انتظام نہ تھا،وہیں میرمنٹ بک 23کو بھی مکمل نہیں کیا گیا،وہیں مزید کہا گیا کہ کام ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا ہے حالانکہ کام کی معیاد مکمل ہوچکی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا گیا ہے کہ انوائسز بھی جعلی تیار کی گئی جو جو کلیمز سے متصادم ہے،انوائسز جو فراہم کی گئیں ان پر وارنٹی کی بھی کوئی تاریخ درج نہیں ہے،آڈٹ پیرا کے مطابق فرنیچر کی خریداری کے لیے 9.17ملین روپے ٹھیکہ دار کو فراہم کیے گئے لیکن ٹھیکہ دار نے صرف 5.99ملین کا فرنیچر فراہم کیا۔آڈٹ کے مطابق سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کا کام ڈرگ آٗیٹمز پر مشتمل تھا اور ان کو13آئیٹمز کی ٹیسٹنگ کا کام سونپا گیا تھا وہیں اس میں تفصیلات ہی نہیں دی گئیں کہ ان کا کونسا ٹیسٹ کرنا ہے اور کون سا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

گزشتہ چار سالوں میں سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب پر اربوں روپے لگائے گئے،حساب موجود نہیں،آڈیٹرجنرل
سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر سیف خٹک کو گریڈ18میں اسی لیب میں تعینات کیا،ذرائع
سی ا ی و ڈریپ نے بورڈ کی منظوری کے بغیر سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب پر پر244ملین روپے خرچ کیے،آڈٹ رپورٹ میں ا نکشاف
” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں