14

سفری پابندیاں ختم، جمال خاشقجی کے بیٹے سعودی عرب سے امریکا روانہ

سفری پابندیاں ختم، جمال خاشقجی کے بیٹے سعودی عرب سے امریکا روانہ
ویب ڈیسکاپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2018 Facebook Count
1
Twitter Share
0
ترکی میں قائم سعودی سفارتخانے میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بیٹے صالح خاشقجی اور ان کے اہلخانہ حکومت کی جانب سے سفری پابندیاں ختم ہونے کے بعد خلیجی ریاست چھوڑ کر چلے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیا وائٹسن کا کہنا تھا کہ صالح اور ان کے اہلخانہ واشنگٹن روانہ ہوگئے ہیں۔

تاہم اس معاملے پر سعودی حکام کی جانب سے کوئی فوری رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے امریکا اور سعودی عرب کی دوہری شہریت رکھنے والے صالح خاشقجی امریکا میں اپنے بہن بھائیوں سے ملاقات کریں گے جو وہاں پہلے ہی سے مقیم ہیں۔

جمال خاشقجی سے روابط رکھنے والی راندا سلم کا کہنا تھا کہ ’جمال کے اہلخانہ کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کی ضرورت تھی تاکہ وہ مل کر اپنے پیارے کا پرسا کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ سعودی حکام کو جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے صالح کی سفری پابندی ہٹانے کا خیال آیا ہے۔

واضح رہے کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں قتل کیا گیا تھا۔

وہ وہاں اپنی ترک منگیتر سے شادی کے لیے دستاویزات لینے کے لیے گئے تھے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

سعودی حکام نے ترک ذرائع کے دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمال خاشقجی لاپتہ ہونے سے قبل قونصل خانے کی عمارت سے باہر جاچکے تھے۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد ایک ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا کہ سعودی صحافی، شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ خاشقجی کی صحافت سعودی حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں تھی لیکن ان کے خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات تھے جس کی وجہ سے انہیں بعض اہم معاملات سے متعلق علم تھا۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دھمکی آمیز بیان میں کہا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں