42

افغانستان: طالبان کے حملوں میں خاتون سمیت 21 افغان اہلکار ہلاک

افغانستان میں افغان طالبان کے 2 مختلف حملوں میں خاتون سمیت 21 اہلکارہلاک ہو گئے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں طالبان جنگجوؤں نے افغان پولیس چوکی پر حملہ کرکے 11 اہلکاروں کو ہلاک کیا۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائی ایسے وقت پر کی گئی جب روس میں طالبان اور افغان رہنماؤں کے مابین امن مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

طالبان رہنماؤں، سابق صدر حامد کرزئی، اپوزیشن رہنما اور قبائلی علماء مذاکراتی عمل میں شامل ہیں تاہم کابل حکومت کے حکام مذاکرات کا حصہ نہیں۔

اس حوالے سے صوبائی کونسل کے سربراہ صفدر محسنی نے بتایا کہ ’بغلانی مرکزی ضلع میں طالبان نے مقامی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور ان کے درمیان 2 گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے حملے میں 5 افغان پولیس ہلکار بھی زخمی ہوئے تاہم حملہ آوار اپنے ہمراہ اہلکاروں کا اسلحہ اور بارود ساتھ لے گئے۔

صفدر محسنی نے بتایا کہ ’طالبان نے پیر کی رات کو حملہ کیا اور چیک پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرلیا‘۔

دوسری جانب طالبان نے صوبہ سمنگان میں حکومت حامی ملشیا پر حملہ کیا جس سے ایک خاتون سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس حواے سےصوبائی گورنر کے ترجمان صدیق عزیزی نے بتایا کہ ’ضلع ڈیڑہ ون صف میں طالبان کے حملے میں 4 افراد بھی زخمی ہوئے‘۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے مقامی کسانوں کو نشانہ بنایا جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ ضلع بہت پسماندہ اور دور افتادہ ہے جہاں اپنے گھروں اور علاقے کی حفاظت کے لیے مقامی جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیا قائم ہے‘۔

طالبان میں دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ .

واضح رہے کہ 22 جنوری کو افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے امریکی حکام نے طالبان سے قطر میں ملاقات کی تھی۔

طالبان نے کہا تھا کہ افغان جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کے لیے انہوں نے امریکی حکام سے ملاقات کی، جس میں مختلف امور پر بات کی گئی۔

امریکا کی جانب سے طالبان کے اس دعوے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا گیا تھا جہاں دونوں فریقین نے اس سے قبل آخری مرتبہ گزشتہ سال دسمبر میں ملاقات کی تھی۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے خاتمے اور مستقبل میں اسے کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا ایجنڈا تسلیم کیے جانے کے بعد امریکی نمائندوں سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں