292

کرونا وائرس ۔۔موت کا ڈر۔۔حجاب کی اہمیت

کرونا وائرس ۔۔موت کا ڈر۔۔حجاب کی اہمیت

چینی کرونا وائرس نے تمام دنیا کو ماسک کی شکل میں حجاب کی اہمیتِ و فوائد یاد کروا دییے جنہیں نام نہاد مہذب دنیا کا نظام عدل نہیں مانتا تھا

پوری دنیا میں جہاں بھی جائیں کم ہی کوئی شخص نظر آے گا جس نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ماسک نا پہنا ہو یعنی حجاب نا کیا ہو

دہ ہزار چودہ کے دھرنے میں جب اسوقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا تو ممتاز قانون دان اعتزاز احسن نے نواز شریف جو پارلیمنٹ کم آتے تھے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک واقعہ یاد کروایا کہ کسی خاتون کا ناخلف بیٹا جب کسی جرم میں تھانے میں پنجاب پولیس کے روایتی تھرڈ ڈگری میتھڈ سے چھتر کھا رہا تھا تو جب وہ ناخلف بیٹا چیخیں مارتے ہوءے چلاتے ہوئے کہتا تھا کہ ہاے ماں ہاے ماں
اس پر بوڑھی ماں نے تھانیدار کا شکریہ ادا کیا کہ بھلا ہو تھانیدارا تو نے میرے بچے کو ماں تو یاد کروا دی
کچھ ایسا ہی کرونا وائرس نے ان کروڑوں مسلمان خواتین کو دلاسا دیا ہے اور یورپ کے نظام عدل کے منہ پر طمانچہ مارا ہے جو حجاب کو سیکورٹی رسک قرار دیتے تھے اور پہچان کے نام پر حجاب پر پابندی عائد کرتے تھے کیونکہ

بارسلونا جانے کے لیے قطر ائیرویز کی پرواز سے جیسے ہی اڑان بھری تو جہاز میں اکا دکا اور اسلام آباد ائیر پورٹ پر شازوناظر ہی کوئی شخص ایسا ملا ہو گا جس نے اپنے چہرے پر ماسک پہنا ہو لیکن جیسے ہی دوہا کے بین القوامی حماد ایئرپورٹ پر پہنچا تو وہی تعداد اکا دکا اور شازوناظر مجھے نظر آئی جس نے اپنے چہرے پر ماسک نہیں پہنا ہو گا
پاکستان میں تو ہم دیکھتے ہیں ایک ہی قسم کا ماسک سفید و سبز رنگ کا لیکن اگر دوہا ایر پورٹ یا بارسلونا کے بین القوامی ہوائی اڈے پر دیکھیں یا جہاز کے اندر موجود مسافروں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ماسک کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں ایسے ایسے ماسک بھی دیکھے جیسے ہمارے ہاں 1122کے رضآ کاروں نےآگ اور دھویں سے بچاؤ کے لیے پہن رکھے ہوتے ہیں اور کئی ماسک دیکھ کر ایسے۔محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ہم بارسلونا نہیں چاند پر جارہے ہیں جبکہ کئی ماسک ایسے تھے جیسے ایٹمی جنگ کے موقع پہننے کے لیے تیار کیے گیے ہوں
کئی خواتین نے ماسکوں کے اوپر بھی ماسک چڑھا رکھے تھے
جبکہ اکثریت ایسی بھی تھی جنہوں نے دس سے پندرہ درجہ حرارت کے باوجود چہرے پر تو ماسک پہنے ہوے تھے لیکن انکے جسم۔۔۔۔۔۔
ماسک پہننے کی وجہ سے انکی نا صرف خوبصورتی کا اندازہ لگانا مشکل تھا بلکہ انکی پہچان بھی نہیں ہورہی تھی دیکھا گیا کہ ان دنوں میک اپ کے سامان والی دوکان پر کوئی گاہک نظر نہیں آ رہا تھا اور وہاں پر مندی کا رحجان تو تھا لیکن ماسک فروخت کرنے والی دوکانوں کے ساتھ ساتھ عارضی دوکاندار کی جیسے چاندی ہو گئی ہو
ایک وقت میں حجاب کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت نے اب ایسے ایسے ماسک پہنے ہوئے تھے جس سے انکی قومیت تک کی شناخت ممکن نظر نہیں تھی ایسے میں یہ منظر ان انصاف پسندی کے نام لیوا منصفوں کے منہ پر تو طمانچہ تھا جو شناخت کے نام پر حجاب پر پابندی لگا چکے ہیں
ایسے میں ان تمام مسلمان خواتین بہنوں بیٹیوں کی اخلاقی فتح اور انکی اسلام سے محبت کے عزم اور قرآنی تعلیمات سے محبت کی جیت ہوئی ہے جنہیں یورپ کی نام نہاد انصاف پسند عدالتوں اور نظام عدل سے مایوسی ہوئی تھی
اب ایسے منصفوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اب شناخت کے نام پر دہشت گردی کے ڈر کے خوف سے جو حجاب پر پابندی لگائی گئی تھی اب وہ یہ حجاب ساری دنیا نے پہن لیا ہے
پہلے تو حجاب اور برقعوں کے نقاب اتار کر ایئرپورٹس پر پاسپورٹ پر لگی تصویر کی شناخت کی جاتی تھی لیکن اب تو کسی خاتون تو درکنار کسی مرد سے بھی نہیں پوچھا جا رہا کہ نقاب اتاریں ہم دیکھیں کہ یہ پاسپورٹ آپ کا ہی ہے یا درست مسافر کی سفر کر رہا ہے
قرآنی تعلیمات اور احکامات نے جہاں کرونا وائرس کی شکل میں اور اسکے ڈر اور خوف سے جہاں پردے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور نقاب کے ساتھ ساتھ حجاب کی افادیت کی تسلیم کیا اللہ نہ کرے کہ کوئی ایسا واءیرس اب آیے جو سخت سردیوں میں بھی ایسے فیشن پرستوں پر بھی اور مختصر لباسوں پر بھی پابندی لگانے جس سے معاشرے میں خاص طور پر عورت ذات اپنے جسموں کی سرعام نمائش کرتی ہیں اور تقریبات میں بازاروں میں ساحلوں پر جبکہ نیم ننگی ہو کر بازاروں میں بھی پھرتی ہیں
ممکن ہے کہ یورپ کی تقلید میں ہمارے معاشرے میں بھی بڑھتی ہوئی عریانی و فحاشی و جسمانی نمائش کے مقابلے رک جایں جیسے کرونا وائرس نے دنیا کو نقاب یاد کروا دیا ایسے میں نہ ہو کہ کوئی ایسی ہوا کے ڈر سے کہ اگر جسم کا کوئی حصہ یا مخصوص جگہ اگر ننگی رہ گئی تو اس سے جسمانی بیماری یا خارش یا کوئی ایسی جان لیوا بیماری لگ سکتی ہے جس سے جان جانے کا خطرہ ہو
اللہ کا شکر ہے کہ کرونا وائرس نے تمام دنیا کو پردہ یاد کروا دیا ہے جیسے پولیس سے مار پڑتے ہوے اس ناخلف بیٹے کو ماں یاد آتی تھی
اس سے پہلے ہی ہمیں ہر قدر اور اداروں کی حفاظت کرنا ہونگی اور خاص طور پر مسلمانوں کی پردے اور جسم کے حوالے سےاقداروں کی
ویسے کرونا واءیرس سے پتہ ضرور چل گیا ہے کہ صرف جان ہی قیمتی ہے نام۔نہاد عدالتی نظام اور آزادی نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply