46

خام مال کی بر آمد سے ملک میں موجودہ ماربل اور گرینائٹ کے زخائر ضائع ہو رہے ہیں، ایف پی سی سی آئی

ملک میں موجود ماربل اور گرینائیٹ کے زخائر ضائع ہو رہے ہیں
توجہ دینے سے برامدات میں ڈھائی سو فیصد اضافہ ممکن ہے
خام مال کی برامد نے اس شعبہ کی ترقی کو روک رکھا ہے

(17ستمبر2020)
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر قیصر خان داؤدزئی نے کہا ہے کہ دنیا میں ماربل اور گرینائیٹ کی پیداوار میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے مگر پینتالیس ارب ڈالر کی تجارت میں اس کا حصہ دو فیصد سے بھی کم ہے۔قدیمی طور طریقوں اور ارباب اختیار کی عدم دلچسپی کے سبب ملک میں موجود ماربل اور گرینائیٹ کے وسیع زخائر ضائع ہو رہے ہیں۔توجہ دینے سے برامدات میں دو سو فیصد اضافہ ممکن ہے۔قیصر خان داؤدزئی نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہملک میں اعلیٰ کوالٹی کے ماربل اور گرینائیٹ کے 297 ارب ٹن کے ذخائر موجود ہیں جن سے بھاری زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے تاہم خام مال کی برامد نے اس شعبہ کی ترقی کو روک رکھا ہے۔دیگر ممالک پاکستان سے کوڑیوں کے مول خام مال خرید کر بھاری منافع کمار رہے ہیں۔اس وقت صرف دس فیصد ویلیو ایڈڈ ماربل اور گرینائیٹ برامد کیا جا رہا ہے جبکہ باقی خام مال ہوتا ہے جس کی کم قیمت ملتی ہے۔ ماربل کے 80 فیصد سے زیادہ زخائر صوبہ خیبر پختونخواہ میں واقع ہیں جبکہ باقی ماندہ بلوچستان اور سندھ میں ہیں۔امن و امان کی صورتحال، توانائی بحران، قرضوں کی عدم فراہمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے ماربل کی سالانہ پیداوار صرف پچیس لاکھ ٹن ہے جسے بڑھانے کیلئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی بھرپورتوجہ کی ضرورت ہے۔مقامی صنعت کی کمزوری کی وجہ سے چین اور اٹلی بڑی مقدار میں ماربل اور گرینائیٹ درامد کرتے ہیں اور اس میں ویلیو ایڈ کر کے اسے پاکستان سمیت کئی ممالک کو برامد کر دیتے ہیں۔ اگر حکومت جدید مشینری درامد کر کے کاروباری برادری کو آسان شرائط پر دے تو پاکستان ماربل اور گرینائیٹ کی 45 ارب ڈالر کی منڈی میں بڑا حصہ وصول کر سکتا ہے۔
۔۔۔
سجاد۔ایف پی سی سی آئی کیپیٹل آفس
0512251891/2
03315285761

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں