57

دوران حمل بہت زیادہ فولک ایسڈ کا استعمال بچوں کی نشوونما کیلئے نقصان دہ

دوران حمل خواتین کو فولک ایسڈ کا استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے.

فولک ایسڈ یا وٹامن بی نائن صحت کے لیے انتہائی اہم ہے جو کہ ڈی این اے کی مرمت، خون کے سرخ خلیات کی پیداوار سمیت متعدد اہم افعال میں مدد دیتا ہے۔

مگر اس کا بہت زیادہ استعمال ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی دماغی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے، کم از کم چوہوں پر ایسا دریافت کیا گیا ہے۔

امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں اس کا انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ حاملہ خواتین کے لیے بہترین ڈوز کا تعین کیا جاسکے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ فولک ایسڈ کا بہت کم یا بہت زیادہ استعمال دوران حمل فائدہ مند نہیں، بلکہ درست توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔

طبی جریدے سیربرل کورٹیکس میں شائع تحقیق میں حاملہ چوہوں کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ایک گروپ کو معمول کی مقدار، ایک کو طے شدہ مقدار سے 10 گنا زیادہ مقدار اور تیسرے کو بالکل بھی فولک ایسڈ کا استعمال نہیں کرایا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جن جانوروں کو بہت زیادہ مقدار میں فولک ایسڈ کا استعمال کرایا گیا، ان کے بچوں میں نمایاں دماغی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ غیر نمایاں نہیں بلکہ بہت ٹھوس ہے، کیونکہ بہت زیادہ فولک ایسڈ کے استعمال سے دماغی ساخت بدل جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ فولک ایسڈ سے دماغ میں وہی تبدیلیاں آتی ہیں جو اس کمی کے نتیجے میں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانوں میں فولک ایسڈ کی کمی سے بچوں میں ایسا عارضہ ہوتا ہے جسے آٹزم سے جوڑا جاتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ فولک ایسڈ کے استعمال کا مشورہ خواتین کو دیا جاتا ہے جو بچوں میں مختلف مسائل کا خطرہ کم کرتا ہے، جبکہ آٹزم اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے۔

اس تحقیق میں شامل رالف گرین امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف میڈیسین کا حصہ رہے جس نے روزانہ 400 سے ایک ہزار ایم سی جی فولک ایسڈ کی شفارش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ غذا میں فولک ایسڈ کا اضافہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، مگر اس کی ایک حد ہوتی ہے، مگر کھ لوگ ضرورت سے زیادہ فولک ایسڈ جسم کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ جانوروں میں ہم نے دیکھا کہ فولک ایسڈ کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال ماں کے پیٹ میں بچے کی دماغی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے، اور طبی ماہرین کو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، تاکہ حاملہ خواتین کے لیے بہترین مقدار کا تعین کیا جاسکے۔

ان کے خیال میں اس کی ممکنہ وجہ فولک ایسڈ کا جسم میں میٹابولائز کا طریقہ کار ہوسکتا ہے مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں