14

پاکستان میں کووڈ-19 کے مریضوں پر تحقیق کا آغاز

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے پیرا میڈیکل اسٹاف اور امریکی سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم نے پاکستان میں کووڈ-19 کے مریضوں پر تحقیق کا آغاز کیا۔

ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں ٹیم نے کووڈ-19 مریضوں کے نمونے اکٹھا کر کے لیب ٹیسٹ کے لیے بھیجنا شروع کر دیے، پمز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان کو بتایا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ٹیکسلا کا بھی دورہ کیا جہاں 300 نمونے جمع کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر خواجہ نے کہا کہ ٹیم آئندہ ہفتے میں دیگر شہروں کا بھی دورہ کرے گی اور فیصل آباد میں ان کا قیام ہو گا۔تحریر جاری ہے‎

ترجمان نے بتایا کہ سائنسدان پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد خصوصاً ان کی علامات اور مریضوں پر وائرس کے اثرات کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔

مثبت کیسز میں اتار چڑھاو پر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے کہا کہ 90فیصد مریضوں میں کوئی علامت نہیں دکھائی دیتی ہیں اور اس وجہ سے وہ خود ٹیسٹ نہیں کرا پاتے ہیں۔

ڈاکٹر وسیم خواجہ نے کہا کہ بیشتر ایسے مریض جن میں علامات نہیں ہوتیں وہ کسی طبی امداد کے ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن وہ اپنے قریبی لوگوں تک اس وائرس کو پھیلاتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یہ وائرس بوڑھے افراد، دل، گردے یا پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار افراد یا ان لوگوں کے لیے خطرناک ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فلو اور کھانسی کی شکایات کے حامل کچھ مریض ہسپتال آ کر خود ٹیسٹ کرواتے ہیں لیکن ان کا کورونا کا ٹیسٹ منفی آتا ہے، تاہم جب ان کے سی ٹی اسکینز اور سینے کے ایکس رے کیے جاتے ہیں تو ان میں کووڈ-19 پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر وسیم خواجہ نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں کیسز کی تعداد میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

ادھر اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو اموات اور 123 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

دارالحکومت انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ 4ہزار 92 افراد کی جانچ کی گئی جن میں سے 262 افراد مصدقہ کیسز کے حامل افراد سے رابطے میں رہے، دارالحکومت میں مثبت کیسز کی شرح 3فیصد ریکارڈ کی گئی، مرنے والے دونوں مرد تھے اور ان کی عمر 50-59 اور 60-69 کے درمیان تھی، وہ G-10 اور G-8 میں مقیم تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں