6

مقامی لوگ ہزاروں سال پرانی تہذیب موہن جوداڑو کی اینٹیں بھی اٹھا لے گیے ۔قائمہ کمیٹی میں انکشاف

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کو بتایا گیا ہے کہ چار ممالک کی طرف سے پاکستان کو سمگل شدہ نوادرات واپس کرنے کیلئے رابطہ کیا گیاہے ،وزارت خارجہ کی مدد سے یہ نوادرات واپس منگوائے جا رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے لوگ موہنجو داڑو سے اینیٹں اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو لوک ورثہ میں ہوا، چیئرمین کمیٹی نجیب الدین کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے اجلاس کی صدارت عندلیب عباس نے کی ۔ وزارت کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ کرونا ایس او پیز فالو نہ کرنے پر 45سکرلز کو سیل کر دیا گیا ہے ، رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اساتذہ کو مارنے سے منع کرنے کے باوجود ابھی بھی طالب علموں پر تشدد کیا جا رہاہے جس کی وجہ اساتذہ یہ بتاتے ہیں کہ اس کے بغیر طالب علم پڑھتے نہیں ہیں جس پر کمیٹی نے ایسے سکولز کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا ۔ لوک ورثہ حکام نے اجلاس کو بریفنگ کے دوران آنے والے منصوبوں کے بارے بریفنگ دی رکن کمیٹی حامد حمید نے کہا کہ یہ تمام منوبے مستقبل میں بنائے جائیں گے مگر اب تک لوک ورثہ نے ماسوائے میلوں کے علاوہ کیا خدمات سرانجام دیں جس پر حکام کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے ۔سیکرٹری لوک ورثہ نوشین جاوید امجد نے کہاکہ ہمیں سب سے بڑا مسئلہ فنڈنگ کا ہے یہاں پر بارہ سال سے دکانیں معمولی کرائے پر دی ہوئی تھیں جس کا از سر نو جائزہ لیا جا رہاہے اس کے علاوہ فوڈ کورٹ بنا رہے ہیں جس میں ملک بھر کے مشہور کھانے بنائے جائیں گے اور لوک میوزک بھی ہوگا ۔ رکن کمیٹی صداقت عباسی کی جانب سے مشہور گلوکار مہدی حسن کی قبر پر گندگی کے ڈھیر کی توجہ دلائی ۔جس پر کمیٹی نے مہدی حسن کی قبر کی از سر نو تزین وآرائش کی ہدایت جاری کر دی ۔لوک ورثہ کی حفاظت کے حوالے سے حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ چار ممالک کی طرف سے پاکستان کو سمگل شدہ نوادرات واپس کرنے کیلئے رابطہ کیا گیاہے ،وزارت خارجہ کی مدد سے یہ نوادرات واپس منگوائے جا رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے لوگ موہنجو دڑو سے اینیٹں اٹھا کر لے جا رہے ہیں، ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں