150

کیا ٹرمپ کا دورہ بھارت کااعلان پاکستان کو عالمی سطح پر شکست؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر24 فروری کو نئی دہلی پہنچیں گے . امریکی صدر کا یہ دو روزہ یہ دورہ 24 تا 25 فروری کو ہوگا جسے امریکا کے صدارتی انتخابات2020سے بھی جوڑا جارہا ہے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بڑے شہروں میں بھارتی نعار ووٹروں کی حمایت اور پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے ٹرمپ اسلام آباد کو نظرانداز کررہے ہیں جوکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔


امریکی صدر اور خاتون اول کے دورہ بھارت کے دوران خصوصی طور پر ان کا ایک دن کا دورہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں رکھا گیا ہے جہاں فروری2002میں ا س وقت کے وزیراعلی نریندرمودی کی سرپرستی اور گجرات کی ریاستی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے آرایس ایس کے دہشت گردوں نے سینکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلادیا تھا. تاہم اسلام آباد واشنگٹن کو اس بات پر قائل کرنے میں مکمل ناکام نظرآتا ہے کہ واشنگٹن کی بھارت پر یکطرفہ مہربانیوں سے امریکا کے خطے میں پرانے اتحادی اور نائن الیون کے بعد فرنٹ لائن ریاست کے طور پر لڑنے والے پاکستان نے امریکی مفادات کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں مگر بدترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی صدر کے دورہ بھارت کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے۔


پاکستان پوائنٹ نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹراور بین القوامی امورکے ماہر میاں محمد ندیم نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی فوج(جس کا خارجہ پالیسی میں گہرا عمل دخل ہے) اور سیاسی قیادت فیصلہ کن اقدامات لے اور پاکستانی کی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کیا جائے جس میں امریکا اور زیر اثر بین الاقوامی اداروں پر انحصارکم بتدریج کم کرتے ہوئے خطے میں چین اور روس کے جھنڈوں تلے بننے والے نئے بلاکس پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے جبکہ اپنے معاشی مفادات اور امریکا میں موجود طاقتور بھارتی لابی کو خوش کرنے کے لیے ہمیشہ اپنا وزن نئی دہلی کے پلڑے میں ڈالا ہے واشنگٹن کی ایک مجبوری اسرائیل بھی ہے جو روایتی طور پر اسلامی دنیا کی واحد اٹیمی طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اپنا حریف سمجھتا ہے لہذا اسرائیلی لابی بھی امریکا میں بھارت کے مفادات کے تحفظ میں ا س کی مدد کرتی ہے جبکہ پاکستان کوعربوں سمیت واشنگٹن میں کسی مضبوط لابی کی حمایت حاصل نہیں.انہوں نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کی کارکردگی بھارتی سفارت خانوں کے مقابلے میں انتہائی گھٹیا ہے اور پاکستان کے زیادہ تر سفیر چونکہ سفارشی ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت خارجہ کی بیرون ممالک کاکردگی بہتر بنانے کے لیے نوازنے کی پالیسی ترک کرکے کیئریئرافسران کو ہی سفیر مقررکیا جائے،امریکی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بھارتی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے امریکی حکومت کے پریس سیکرٹری کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ 24 سے 25 فروری


تک بھارت کا دو روزہ دورہ کریں گے اپنے اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور خاتون اول نئی دہلی اور احمد آباد جائیں گے احمد آباد بھارت کے وزیراعظم کی آبائی ریاست گجرات میں واقع ہے،واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان اس دورے کے حوالے سے گفتگو ہوئی تھی جس میں دونوں راہنمائوں نے اتفاق کیا تھا کہ اس دورے سے امریکہ اور بھارت کے درمیان سٹریٹیجک شراکت داری مزید مضبوط ہو گی اور یہ دورہ دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے اور رابطے بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا،امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دورے میں امریکا اور بھارت کے درمیان متعدد عسکری و تجارتی معاہدوں کا امکان ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر پر بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ بھارت اس پر واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی کشمیر کے مسئلہ پر مداخلت قبول نہیں کرے گا،یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ کئی بار مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں پاکستان تو کشمیر پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن بھارت کی جانب سے ہر بار یہ پیشکش مسترد کردی جاتی ہے۔


صدر ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ طور پر افغانستان میں بھارتی فوجیں اتارنے کے مطالبے پر میاں ندیم نے کہا کہ یہ قبل ازوقت ہے تاہم اگر امریکا سرکاری طور پر ایسی کوئی درخواست کرتا بھی ہے تو غالب امکان ہے کہ ماضی کی طرح بھارت اس کو ماننے سے انکار کردے کیونکہ بھارتی پالیسی ہے کہ امریکا اور نیٹو کی مدد کے لیے وہ اپنی فوجیں افغانستان کے گوند کے تالاب میں اتارنے کی حماقت نہیں کرے گا. صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آغازمیں بھی بھارت کو افغانستان میں فوجی مددفراہم کرنے کے لیے کہا تھا تاہم بھارتی عسکری ماہرین نے بھارت کو تنبیہ کی تھی کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ بھارت کے لیے تباہ کن اور افغان طالبان کے لیے دہلی کے دروازے کھولنے کے مترادف ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں