64

نئے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط سے آزادی اظہار کو نقصان پہنچے گا، ایلس ویلز

جنوبی ایشیا کے امور کے لیے امریکا کی اعلیٰ سفارتکار ایلس ویلز نے پاکستانی حکومت کے سوشل میڈیا سے متعلق نئے قواعد و ضوابط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار اور ڈجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے دھچکا ہوگا . سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ایلس ویلز نے کہا کہ ‘اگر پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کی

حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور اس طرح کے متحرک سیکٹر میں مقامی جدت کو دبا رہا ہے تو یہ بدقسمتی کی بات ہے، ہم معاملے پر اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی حوصلہ افزائی کریں گے .واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی. ان اصولوں کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا. اس میں جو معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں ان میں صارف کی معلومات، ٹریفک ڈیٹا یا مواد کی تفصیلات شامل ہیں. ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرونک طریقے سے’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے. علاوہ ازیں ان کمپنیوں کو آئندہ 3 ماہ

کے عرصے میں عملی پتے کے ساتھ اسلام آباد میں رجسٹرڈ آفس قائم کرنا ہوگا. اس کے ساتھ ان کمپنیوں کو 3 ماہ کے عرصے میں پاکستان میں متعلقہ حکام سے تعاون کے لیے اپنا فوکل پرسن تعینات کرنا اور آن لائن مواد کو محفوظ اور ریکارڈ کرنے لیے 12 ماہ میں ایک یا زائد ڈیٹا بیس سرورز قائم کرنا ہوں گے. مختلف طبقات کی طرف سے اس اقدام پر حکومت پر تنقید سامنے آئے تھی اور ناقدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے انتظامیہ کو ‘مذہبی منافرت، ثقافتی اور نسلی تعصب پھیلانے اور قومی مفاد’ کے نام پر آزادی اظہار کو کنٹرول کرنے کا موقع ہاتھ آجائے گا. اس تنقید کے جواب میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رولز، شہریوں کی حفاظت کے لیے قائم کیے گئے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ‘اس سے قبل ایسا کوئی طریقہ کار نہیں تھا جس سے ہمارے شہریوں کے مفادات اور قومی سالمیت کا تحفظ کیا جاسکے، تاہم اس پالیسی کے لاگو ہونے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے سے پہلے سوچیں گی.’ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘نئے قوانین نا صرف پاکستان کے مخالفین کو بےنقاب کریں گے بلکہ ان سے حکام کو انتہا پسندوں کو روکنے میں بھی مدد ملے گی جو مذہب اور نسل کی بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں.’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply