7

وزیر بین الصوبائی رابطہ اور حکومت کے اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنما فہمیدہ مرزا نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے ان کے گھر پر حملے کروائے۔ قومی اسمبلی میں میر منور تالپور کی جانب سے اپنا حوالہ دینے پر فہمیدہ مرزا برہم ہوگئیں اور کہا کہ ‘کس کے تن پر کیا تھا میں سب جانتی ہوں لیکن میرا منہ نہ کھلوائیں۔’ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ پر جو حملہ ہوا وہ تمام چینلز نے دکھایا اور خود اعلیٰ عدالت نے اس کا نوٹس لیا، میڈیا پر حملہ ہوا سب نے دیکھا جس کے کیسز بھی چلے، نقاب پوش لوگوں کراچی کی سڑکوں پر نکلے اور اتنا بڑا واقعہ ہوا، کون تھے وہ لوگ اور سندھ حکومت نے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا۔ فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ‘اس کے بعد انہوں نے میرے گھر پر حملے کروائے جس میں سندھ حکومت ملوث تھی اور فریال تالپور، جو بغیر کسی عہدے کے وزیر اعلیٰ بنی ہوئی ہیں ان کے گھر سے ہدایات جارہی تھیں اور وزیر اعلیٰ ان کے گھر میں موجود تھے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے بعد دہشت گردی سمیت 32 کیسز بنائے گئے۔’ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے شور شرابہ کیا اور اسپیکر اسد قیصر کے ڈائس کا گھیراؤ کیا۔ فہمیدہ مرزا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘اپوزیشن اراکین جب بات کریں گے تو سننے کی بھی ہمت رکھیں اور میں بھی ایک ایک کے چٹھے یہاں کھولوں گی، میرے پاس تمام شواہد موجود ہیں۔’

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا حکم دیا ہے۔

وزیر اعظم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین بینک اکاؤنٹس کھلوا کر باضابطہ طور پر ملکی معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان مہاجرین کی میزبانی کرنے والادنیا کاسب سے بڑاملک

وزارت عظمیٰ کا حلف ہٹانے کے بعد عمران خان نے پاکستان میں مقیم 15لاکھ افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ 1979 میں سابقہ سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی، تاہم یو این ایچ سی آر کے مطابق 2002 سے اب تک 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔

اس کے باوجود پاکستان اب بھی 14 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین سمیت تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے کیونکہ گزشتہ 2 برس کے دوران پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کا عمل کافی سست ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ افغانستان میں عدم استحکام، بنیادی سہولیات کا فقدان اور بیروزگاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں افغان مہاجرین کا قیام ’ طویل پناہ گزینوں کا بحران‘ قرار

تاہم اس دوران وقتاً فوقتاً افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ بھی جاری رہا اور 2016 سے اب تک 3 لاکھ سے زائد مہاجرین وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

وزیر اعظم نے افغان مہاجرین کی اسی مالی مشکل کو دیکھتے ہوئے رجسٹرڈ افراد کو ملک میں بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں ایک عام شہری کی طرح انجام دے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں